Showing posts with label ذاکر حسین. Show all posts
Showing posts with label ذاکر حسین. Show all posts

Wednesday, 25 October 2023

چاندنی میں کتاب پڑھتے ہیں

 چاندنی میں کتاب پڑھتے ہیں

ہم رخِ لاجواب پڑھتے ہیں

اس کی آنکھیں طلسم کے اوراق

جِن کو خانہ خراب پڑھتے ہیں

وہ جو آیت کی شکل میں پہنچی

با وضو، بے حساب پڑھتے ہیں

Friday, 15 October 2021

مجھ کو اٹھا لیا مرے اپنے اٹھا لیے

 مجھ کو اٹھا لیا مِرے اپنے اٹھا لیے

پھر بھی نہ کچھ بنا تو پرندے اٹھا لیے

سوچا تھا دیر تک یہیں آرام سے رہوں

لیکِن ہوائے دشت نے خیمے اٹھا لیے

پہلے تھا کوئی پیٹ کو کچرے سے پالتا

پھر یوں ہُوا کہ شہر سے کچرے اُٹھا لیے

Tuesday, 12 October 2021

اک عجب سا درد سينے میں چھپا رہتا ہے دوست

 اک عجب سا درد سينے میں چُھپا رہتا ہے دوست

موسمِ قُربت میں بھی یہ دل خفا رہتا ہے دوست

اک حیا کے سامنے اس کے ستم مانند پڑے

اس کی آنکھوں میں خدا جانے خدا رہتا ہے دوست

میرے سجدوں میں کوئی تاثیر اب باقی نہیں

اب خدا سے رابطہ ہر پل کٹا رہتا ہے دوست

کیا کسی دام کا نہیں رہتا

 کیا کسی دام کا نہیں رہتا؟

جو تِرے کام کا نہیں رہتا

اک خماری ہے اسکی آنکھوں میں

لطف پھر جام کا نہیں رہتا

میں ستارہ ہوں آسمان کا جو

منتظر، شام کا نہیں رہتا

Sunday, 26 September 2021

خمار و خواہش دنیا میں ڈال رکھا ہے

 خمار و خواہشِ دنیا میں ڈال رکھا ہے

خدا نے عشق کی آفت کو ٹال رکھا ہے

جو تُو نے جلوۂ سینا پہ ڈال رکھا ہے

اسی نقاب نے عالم سنبھال رکھا ہے

پرندے روز نئے رزق کو نکلتے ہیں

شکاریوں نے مگر چھت پہ جال رکھا ہے

Friday, 4 June 2021

ان آنکھوں میں نمی آتی نہیں اب

 ان آنکھوں میں نمی آتی نہیں اب

تمہاری یاد بھی آتی نہیں اب

ہرے جنگل سے واپس لوٹتا ہوں

وہاں کوئی پری آتی نہیں اب

دکانیں بند ہوئی جاتی ہیں ساری

وہ کھڑکی پر کبھی آتی نہیں اب