چاندنی میں کتاب پڑھتے ہیں
ہم رخِ لاجواب پڑھتے ہیں
اس کی آنکھیں طلسم کے اوراق
جِن کو خانہ خراب پڑھتے ہیں
وہ جو آیت کی شکل میں پہنچی
با وضو، بے حساب پڑھتے ہیں
چاندنی میں کتاب پڑھتے ہیں
ہم رخِ لاجواب پڑھتے ہیں
اس کی آنکھیں طلسم کے اوراق
جِن کو خانہ خراب پڑھتے ہیں
وہ جو آیت کی شکل میں پہنچی
با وضو، بے حساب پڑھتے ہیں
مجھ کو اٹھا لیا مِرے اپنے اٹھا لیے
پھر بھی نہ کچھ بنا تو پرندے اٹھا لیے
سوچا تھا دیر تک یہیں آرام سے رہوں
لیکِن ہوائے دشت نے خیمے اٹھا لیے
پہلے تھا کوئی پیٹ کو کچرے سے پالتا
پھر یوں ہُوا کہ شہر سے کچرے اُٹھا لیے
اک عجب سا درد سينے میں چُھپا رہتا ہے دوست
موسمِ قُربت میں بھی یہ دل خفا رہتا ہے دوست
اک حیا کے سامنے اس کے ستم مانند پڑے
اس کی آنکھوں میں خدا جانے خدا رہتا ہے دوست
میرے سجدوں میں کوئی تاثیر اب باقی نہیں
اب خدا سے رابطہ ہر پل کٹا رہتا ہے دوست
کیا کسی دام کا نہیں رہتا؟
جو تِرے کام کا نہیں رہتا
اک خماری ہے اسکی آنکھوں میں
لطف پھر جام کا نہیں رہتا
میں ستارہ ہوں آسمان کا جو
منتظر، شام کا نہیں رہتا
خمار و خواہشِ دنیا میں ڈال رکھا ہے
خدا نے عشق کی آفت کو ٹال رکھا ہے
جو تُو نے جلوۂ سینا پہ ڈال رکھا ہے
اسی نقاب نے عالم سنبھال رکھا ہے
پرندے روز نئے رزق کو نکلتے ہیں
شکاریوں نے مگر چھت پہ جال رکھا ہے
ان آنکھوں میں نمی آتی نہیں اب
تمہاری یاد بھی آتی نہیں اب
ہرے جنگل سے واپس لوٹتا ہوں
وہاں کوئی پری آتی نہیں اب
دکانیں بند ہوئی جاتی ہیں ساری
وہ کھڑکی پر کبھی آتی نہیں اب