مجھ کو اٹھا لیا مِرے اپنے اٹھا لیے
پھر بھی نہ کچھ بنا تو پرندے اٹھا لیے
سوچا تھا دیر تک یہیں آرام سے رہوں
لیکِن ہوائے دشت نے خیمے اٹھا لیے
پہلے تھا کوئی پیٹ کو کچرے سے پالتا
پھر یوں ہُوا کہ شہر سے کچرے اُٹھا لیے
جانے کا سوچ کر مِرے، گاؤں میں باپ نے
جوتے سے رات کو مِرے تسمے اٹھا لیے
یوں لگ رہا ہے جیسے یہ بوڑھوں کا دیس ہے
شہروں نے گاؤں کے سبھی بیٹے اٹھا لیے
زندہ ہی چھوڑ کے مجھے جانا پڑا انہیں
ماں کی دعا نے آج فرشتے اٹھا لیے
ذاکر حسین
No comments:
Post a Comment