وہم ہے یہ آپ کا اس کے سوا کچھ بھی نہیں
جھوٹ کے اس عہد میں عہدِ وفا کچھ بھی نہیں
اپنے جب اعمال کو دیکھا تو مجھ کو یوں لگا
ہم کو جتنی مل رہی ہے وہ سزا کچھ بھی نہیں
عمر بھر رونے سے جتنی سرخ ہیں آنکھیں مری
آپ کے ہاتھوں کا یہ رنگِ حنا کچھ بھی نہیں
وہم ہے یہ آپ کا اس کے سوا کچھ بھی نہیں
جھوٹ کے اس عہد میں عہدِ وفا کچھ بھی نہیں
اپنے جب اعمال کو دیکھا تو مجھ کو یوں لگا
ہم کو جتنی مل رہی ہے وہ سزا کچھ بھی نہیں
عمر بھر رونے سے جتنی سرخ ہیں آنکھیں مری
آپ کے ہاتھوں کا یہ رنگِ حنا کچھ بھی نہیں
عشق کا دعویٰ غلط ہے بات ہے بیکار کی
بات مانی ہے کبھی کیا قافلہ سالار کی
جب کہا تھا قافلہ سالار نے؛ مل کر چلو
کیسے جرأت ہو گئی پھر آپ کو انکار کی
بن رہے ہیں بے ہنر بھی صاحبِ علم و ہنر
کوئی عزت ہی نہیں ہے جبہ و دستار کی
صدائے درد و الم ہی اُبھری وہاں وہاں سے
کتاب ہستی کو میں نے کھولا جہاں جہاں سے
وہ آدمی کے مقابلے میں ٹھہر نہ پائیں
زمیں پہ اُتریں بلائیں جتنی بھی آسماں سے
جب اُس کو ڈھونڈا نہیں ملا تو سمجھ میں آیا
وہ ماورأ ہے، مِرے یقیں سے مِرے گماں سے
یہ تو اک اچھی خبر ہے تیرگی کے واسطے
گھر جلائے جا رہے ہیں روشنی کے واسطے
آ گئے بزمِ طرب میں کارِ وحشت چھوڑ کر
اور کیا کرتے بھلا ہم زندگی کے واسطے
تعزیت کے چند جملوں کو غنیمت جانئے
کون روتا ہے یہاں پر اب کسی کے واسطے
چاند جب میرے گھر میں ہوتا ہے
رقص اک بام و در میں ہوتا ہے
تم کو دیکھا تو یہ کُھلا دل پر
عشق پہلی نظر میں ہوتا ہے
چھُوٹ جاتا ہے ہاتھ رستے میں
سانحہ یہ سفر میں ہوتا ہے