Showing posts with label فیاض علی. Show all posts
Showing posts with label فیاض علی. Show all posts

Sunday, 4 June 2023

وہم ہے یہ آپ کا اس کے سوا کچھ بھی نہیں

 وہم ہے یہ آپ کا اس کے سوا کچھ بھی نہیں

جھوٹ کے اس عہد میں عہدِ وفا کچھ بھی نہیں

اپنے جب اعمال کو دیکھا تو مجھ کو یوں لگا

ہم کو جتنی مل رہی ہے وہ سزا کچھ بھی نہیں

عمر بھر رونے سے جتنی سرخ ہیں آنکھیں مری

آپ کے ہاتھوں کا یہ رنگِ حنا کچھ بھی نہیں

Sunday, 21 May 2023

عشق کا دعویٰ غلط ہے بات ہے بے کار کی

 عشق کا دعویٰ غلط ہے بات ہے بیکار کی

بات مانی ہے کبھی کیا قافلہ سالار کی

جب کہا تھا قافلہ سالار نے؛ مل کر چلو

کیسے جرأت ہو گئی پھر آپ کو انکار کی

بن رہے ہیں بے ہنر بھی صاحبِ علم و ہنر

کوئی عزت ہی نہیں ہے جبہ و دستار کی

Thursday, 11 May 2023

صدائے درد و الم ہی ابھری وہاں وہاں سے

 صدائے درد و الم ہی اُبھری وہاں وہاں سے

کتاب ہستی کو میں نے کھولا جہاں جہاں سے

وہ آدمی کے مقابلے میں ٹھہر نہ پائیں

زمیں پہ اُتریں بلائیں جتنی بھی آسماں سے

جب اُس کو ڈھونڈا نہیں ملا تو سمجھ میں آیا

وہ ماورأ ہے، مِرے یقیں سے مِرے گماں سے

Sunday, 18 April 2021

یہ تو اک اچھی خبر ہے تیرگی کے واسطے

 یہ تو اک اچھی خبر ہے تیرگی کے واسطے

گھر جلائے جا رہے ہیں روشنی کے واسطے

آ گئے بزمِ طرب میں کارِ وحشت چھوڑ کر

اور کیا کرتے بھلا ہم زندگی کے واسطے

تعزیت کے چند جملوں کو غنیمت جانئے

کون روتا ہے یہاں پر اب کسی کے واسطے

Friday, 2 April 2021

چاند جب میرے گھر‌ میں‌ ہوتا ہے

 چاند جب میرے گھر‌ میں‌ ہوتا ہے

رقص اک بام و در میں‌ ہوتا ہے

تم کو دیکھا تو یہ کُھلا دل پر

عشق پہلی نظر میں‌ ہوتا ہے

چھُوٹ جاتا ہے ہاتھ رستے میں

سانحہ یہ سفر میں‌ ہوتا ہے