کچھ نہیں میرا درمیاں مجھ میں
دل کرے اپنی مرضیاں مجھ میں
جائزہ دور سے نہ لے میرا
پاس آ، دیکھ خامیاں مجھ میں
مل نہیں پاتا میں کبھی خود سے
خود سے خود کی ہیں دوریاں مجھ میں
کچھ نہیں میرا درمیاں مجھ میں
دل کرے اپنی مرضیاں مجھ میں
جائزہ دور سے نہ لے میرا
پاس آ، دیکھ خامیاں مجھ میں
مل نہیں پاتا میں کبھی خود سے
خود سے خود کی ہیں دوریاں مجھ میں
تماشائی زمانہ ہے، تماشہ بھی زمانہ ہے
تماشے کا تماشہ ہے، تماشہ ہی فسانہ ہے
بنایا نفس کو اس نے، اسی کو وہ پرکھتا ہے
عجب اس کی خدائی ہے، عجب کا آزمانا ہے
سمجھ کو بخشی آزادی، نظر کو حد عطا کی ہے
نہ جانے کیا بتانا ہے، نہ جانے کیا چُھپانا ہے
جیتے رہنا ہی جینے کا ہرجانا ہے
مر ہی جاتے مگر جرم مر جانا ہے
بے رخی اپنی کب تک چھپائے ہوا
ٹوٹا شیشہ تو اک دن بکھر جانا ہے
جیسا بھی ہو سفر، کاٹنا ہے ہمیں
اور پھر لوٹ کے اپنے گھر جانا ہے
کچھ نہیں میرا درمیاں مجھ میں
دل کرے اپنی مرضیاں مجھ میں
جائزہ دور سے نہ لے میرا
پاس آ، دیکھ خامیاں مجھ میں
مل نہیں پاتا میں کبھی خود سے
خود سے خود کی ہیں دوریاں مجھ میں
نئی راہ پر چلنے گھبرا رہے ہیں
ہے نادان پر عشق فرما رہے ہیں
حیا رفتہ رفتہ نکلنے لگی ہے
وہ بیباک ہوکر ملے جا رہے ہیں
محبت بری ہے یہ سمجھانے والے
ہمیں کر کے تاکید کیا پا رہے ہیں