Showing posts with label مبین ناظر. Show all posts
Showing posts with label مبین ناظر. Show all posts

Tuesday, 14 September 2021

کچھ نہیں میرا درمیاں مجھ میں

 کچھ نہیں میرا درمیاں مجھ میں

دل کرے اپنی مرضیاں مجھ میں

جائزہ دور سے نہ لے میرا

پاس آ، دیکھ خامیاں مجھ میں

مل نہیں پاتا میں کبھی خود سے

خود سے خود کی ہیں دوریاں مجھ میں

Friday, 10 September 2021

تماشائی زمانہ ہے تماشہ بھی زمانہ ہے

 تماشائی زمانہ ہے، تماشہ بھی زمانہ ہے

تماشے کا تماشہ ہے، تماشہ ہی فسانہ ہے

بنایا نفس کو اس نے، اسی کو وہ پرکھتا ہے

عجب اس کی خدائی ہے، عجب کا آزمانا ہے

سمجھ کو بخشی آزادی، نظر کو حد عطا کی ہے

نہ جانے کیا بتانا ہے، نہ جانے کیا چُھپانا ہے

Thursday, 2 September 2021

جیتے رہنا ہی جینے کا ہرجانہ ہے

 جیتے رہنا ہی جینے کا ہرجانا ہے

مر ہی جاتے مگر جرم مر جانا ہے

بے رخی اپنی کب تک چھپائے ہوا

ٹوٹا شیشہ تو اک دن بکھر جانا ہے

جیسا بھی ہو سفر، کاٹنا ہے ہمیں

اور پھر لوٹ کے اپنے گھر جانا ہے

Saturday, 26 December 2020

کچھ نہیں میرا درمیاں مجھ میں دل کرے اپنی مرضیاں

 کچھ نہیں میرا درمیاں مجھ میں

دل کرے اپنی مرضیاں مجھ میں

جائزہ دور سے نہ لے میرا

پاس آ، دیکھ خامیاں مجھ میں

مل نہیں پاتا میں کبھی خود سے

خود سے خود کی ہیں دوریاں مجھ میں

Thursday, 24 December 2020

نئی راہ پر چلنے گھبرا رہے ہیں

 نئی راہ پر چلنے گھبرا رہے ہیں

ہے نادان پر عشق فرما رہے ہیں

حیا رفتہ رفتہ نکلنے لگی ہے

وہ بیباک ہوکر ملے جا رہے ہیں

محبت بری ہے یہ سمجھانے والے

ہمیں کر کے تاکید کیا پا رہے ہیں