Friday, 10 September 2021

تماشائی زمانہ ہے تماشہ بھی زمانہ ہے

 تماشائی زمانہ ہے، تماشہ بھی زمانہ ہے

تماشے کا تماشہ ہے، تماشہ ہی فسانہ ہے

بنایا نفس کو اس نے، اسی کو وہ پرکھتا ہے

عجب اس کی خدائی ہے، عجب کا آزمانا ہے

سمجھ کو بخشی آزادی، نظر کو حد عطا کی ہے

نہ جانے کیا بتانا ہے، نہ جانے کیا چُھپانا ہے

بساط اس کی، حریف اس کا، اسی کے سب پِیادے ہیں

جِتانا ہے اسے کس کو، اسے کس کو ہرانا ہے

عقیدہ ذات پر اس کی مگر پھر بھی مزاج اپنا

ذرا ملحد، ذرا مشرک، ذرا سا کافرانہ ہے

کوئی تقدیر پر روئے، کوئی روئے زمانے پر

دلِ ناکام تو یارو! فقط ڈھونڈے بہانا ہے

ڈرا خود سے ہوا جب بھی مقابل آئینہ میرے

ضمیر استاد ہے میرا، نظر مشکل ملانا ہے

مبین اطراف میں تیرے ڈِرامہ ہے تکلف کا

سبھی کردار ہے، سب کو اداکاری نبھانا ہے


مبین ناظر

No comments:

Post a Comment