Showing posts with label امیر حمزہ ثاقب. Show all posts
Showing posts with label امیر حمزہ ثاقب. Show all posts

Wednesday, 24 April 2024

تو کیا میں دل میں تری یاد بو نہیں پایا

 تو کیا میں دل میں تری یاد بو نہیں پایا

کہ تیرے رنگ کا اک شعر ہو نہیں پایا

بچھڑتے وقت اک الماس لمس نے سونپا

میں چاہتا تھا بہت رونا، رو نہیں پایا

سند تھی کارِ مسیحائی کی صبا کے ہاتھ

مِرا علاج، ہواؤں سے ہو نہیں پایا

Saturday, 13 April 2024

کہاں کہاں ہے رکھا زاد صبح و شام مرا

 کہاں کہاں ہے رکھا زاد صبح و شام مِرا

یہ کس جہان تونگر میں ہے قیام مرا

ہے کس بہار کی خواہش میں جسم صحرا بدوش

ہے کس صدا کی طلب میں نڈھال نام مرا

ہزار اس کو میں سمجھاؤں، دل سنبھلتا نہیں

کہ سرکشی پہ ہے آمادہ یہ غلام مرا

Friday, 26 January 2024

تنکا تنکا میں خوابوں کی محراب سے جمع کرتا رہا

 تنکا تنکا میں خوابوں کی محراب سے جمع کرتا رہا

بادِ انکار کا وہ تسلسل تھا سب کچھ بکھرتا رہا

اک سیہ پوش لمحے نے رنگوں بھری شام سے کیا کہا

رات بھر ماہِ روشن کا چہرہ اُترتا، نِکھرتا رہا

ہم وہ میوہ کہ جن سے کبھی ذائقوں نے بغاوت نہ کی

ہاں درختوں کی شاخوں سے، پتوں سے، موسم گُزرتا رہا

Saturday, 23 September 2023

ترے خیال کے جب شامیانے لگتے ہیں

تِرے خیال کے جب شامیانے لگتے ہیں

سخن کے پاؤں مِرے لڑکھڑانے لگتے ہیں

جو ایک دست بُریدہ سوادِ شوق میں ہے

علم اُٹھائے ہوئے اس کے شانے لگتے ہیں

میں دشت ہُو کی طرف جب اُڑان بھرتا ہوں

تِری صدا کے شجر پھر بُلانے لگتے ہیں

Monday, 19 July 2021

دشت بلائے شوق میں خیمے لگائے ہیں

 دشتِ بلائے شوق میں خیمے لگائے ہیں

ابنِ زیادِ وقت سے کہہ دو ہم آئے ہیں

اک کہکشاں ہی تنہا نہیں وجہِ دلکشی

آنچل پہ تیرے ہم نے بھی موتی لٹائے ہیں

تہہ کر چکے بساطِ غم و فکر روزگار

تب خانقاہِ عشق و محبت میں آئے ہیں