تو کیا میں دل میں تری یاد بو نہیں پایا
کہ تیرے رنگ کا اک شعر ہو نہیں پایا
بچھڑتے وقت اک الماس لمس نے سونپا
میں چاہتا تھا بہت رونا، رو نہیں پایا
سند تھی کارِ مسیحائی کی صبا کے ہاتھ
مِرا علاج، ہواؤں سے ہو نہیں پایا
تو کیا میں دل میں تری یاد بو نہیں پایا
کہ تیرے رنگ کا اک شعر ہو نہیں پایا
بچھڑتے وقت اک الماس لمس نے سونپا
میں چاہتا تھا بہت رونا، رو نہیں پایا
سند تھی کارِ مسیحائی کی صبا کے ہاتھ
مِرا علاج، ہواؤں سے ہو نہیں پایا
کہاں کہاں ہے رکھا زاد صبح و شام مِرا
یہ کس جہان تونگر میں ہے قیام مرا
ہے کس بہار کی خواہش میں جسم صحرا بدوش
ہے کس صدا کی طلب میں نڈھال نام مرا
ہزار اس کو میں سمجھاؤں، دل سنبھلتا نہیں
کہ سرکشی پہ ہے آمادہ یہ غلام مرا
تنکا تنکا میں خوابوں کی محراب سے جمع کرتا رہا
بادِ انکار کا وہ تسلسل تھا سب کچھ بکھرتا رہا
اک سیہ پوش لمحے نے رنگوں بھری شام سے کیا کہا
رات بھر ماہِ روشن کا چہرہ اُترتا، نِکھرتا رہا
ہم وہ میوہ کہ جن سے کبھی ذائقوں نے بغاوت نہ کی
ہاں درختوں کی شاخوں سے، پتوں سے، موسم گُزرتا رہا
تِرے خیال کے جب شامیانے لگتے ہیں
سخن کے پاؤں مِرے لڑکھڑانے لگتے ہیں
جو ایک دست بُریدہ سوادِ شوق میں ہے
علم اُٹھائے ہوئے اس کے شانے لگتے ہیں
میں دشت ہُو کی طرف جب اُڑان بھرتا ہوں
تِری صدا کے شجر پھر بُلانے لگتے ہیں
دشتِ بلائے شوق میں خیمے لگائے ہیں
ابنِ زیادِ وقت سے کہہ دو ہم آئے ہیں
اک کہکشاں ہی تنہا نہیں وجہِ دلکشی
آنچل پہ تیرے ہم نے بھی موتی لٹائے ہیں
تہہ کر چکے بساطِ غم و فکر روزگار
تب خانقاہِ عشق و محبت میں آئے ہیں