Showing posts with label حضرت سرحدی. Show all posts
Showing posts with label حضرت سرحدی. Show all posts

Friday, 9 September 2022

ستاؤں مہر و ماہ کو آج ستاروں کو چھیڑوں

 ستاؤں مہر و ماہ کو آج ستاروں کو چھیڑوں

خیال حسن انسان کے اشاروں کو چھیڑوں

تجھے میں گل کہوں تو پھولوں کو ناز ہو خود پہ

تمہارا نام لے کر میں نظاروں کو چھیڑوں

لبوں کی بات کر کے مستئ شوق کے ساتھ

جنت میں بہنے والے جوئیباروں کو چھیڑوں

Thursday, 11 August 2022

عشق داناؤں کی طریقت بھی ہے

 عشق داناؤں کی طریقت بھی ہے

عشق نادانوں کو نصیحت بھی ہے

عشق حسن سے ہے حسن عشق سے

ان کی اپنی اپنی حیثیت بھی ہے

عشق سے ڈرتا ہوں یہ اپنی جگہ

حسن کو دیکھنا میری عادت بھی ہے

Wednesday, 3 August 2022

حسن بہاراں کہوں تو کیا عجب

 حسنِ بہاراں کہوں تو کیا عجب

رشکِ گلستان کہوں تو کیا عجب

زلف ہے ساون کی کوئی مست گھٹا

رخِ ماہِ تاباں کہوں تو کیا عجب

اور اگر تیرے لب و دنداں کو میں

یاقوت و مرجان کہوں تو کیا عجب

Tuesday, 2 August 2022

جب شامل اسماء الحسنیٰ علی

 عارفانہ کلام منقبت بر مولا علی


جب شامل اسماء الحسنیٰ علی

کیسے آخر نہ پکاروں یا علی

فضل امامت کی ابتداء علی

نورِ ولایت کی انتہا علی

خطبۃ الوداع میں مولا علی

اور مولود خانۂ خدا علی

Monday, 1 August 2022

نگاہ ساغر ہے تو لب جام ہے کیا

 نگاہ ساغر ہے تو لب جام ہے کیا

فنائے ہوش کا اہتمام ہے کیا

یہ زلفِ عنبریں شانوں پہ تیرے

بہار کی مہکی ہوئی شام ہے کیا

لبِ نسیم پہ ہیں نغمات جاری

تُو بہاروں سے ہمکلام ہے کیا