ستاؤں مہر و ماہ کو آج ستاروں کو چھیڑوں
خیال حسن انسان کے اشاروں کو چھیڑوں
تجھے میں گل کہوں تو پھولوں کو ناز ہو خود پہ
تمہارا نام لے کر میں نظاروں کو چھیڑوں
لبوں کی بات کر کے مستئ شوق کے ساتھ
جنت میں بہنے والے جوئیباروں کو چھیڑوں
ستاؤں مہر و ماہ کو آج ستاروں کو چھیڑوں
خیال حسن انسان کے اشاروں کو چھیڑوں
تجھے میں گل کہوں تو پھولوں کو ناز ہو خود پہ
تمہارا نام لے کر میں نظاروں کو چھیڑوں
لبوں کی بات کر کے مستئ شوق کے ساتھ
جنت میں بہنے والے جوئیباروں کو چھیڑوں
عشق داناؤں کی طریقت بھی ہے
عشق نادانوں کو نصیحت بھی ہے
عشق حسن سے ہے حسن عشق سے
ان کی اپنی اپنی حیثیت بھی ہے
عشق سے ڈرتا ہوں یہ اپنی جگہ
حسن کو دیکھنا میری عادت بھی ہے
حسنِ بہاراں کہوں تو کیا عجب
رشکِ گلستان کہوں تو کیا عجب
زلف ہے ساون کی کوئی مست گھٹا
رخِ ماہِ تاباں کہوں تو کیا عجب
اور اگر تیرے لب و دنداں کو میں
یاقوت و مرجان کہوں تو کیا عجب
عارفانہ کلام منقبت بر مولا علی
جب شامل اسماء الحسنیٰ علی
کیسے آخر نہ پکاروں یا علی
فضل امامت کی ابتداء علی
نورِ ولایت کی انتہا علی
خطبۃ الوداع میں مولا علی
اور مولود خانۂ خدا علی
نگاہ ساغر ہے تو لب جام ہے کیا
فنائے ہوش کا اہتمام ہے کیا
یہ زلفِ عنبریں شانوں پہ تیرے
بہار کی مہکی ہوئی شام ہے کیا
لبِ نسیم پہ ہیں نغمات جاری
تُو بہاروں سے ہمکلام ہے کیا