نگاہ ساغر ہے تو لب جام ہے کیا
فنائے ہوش کا اہتمام ہے کیا
یہ زلفِ عنبریں شانوں پہ تیرے
بہار کی مہکی ہوئی شام ہے کیا
لبِ نسیم پہ ہیں نغمات جاری
تُو بہاروں سے ہمکلام ہے کیا
کتنی دلکش ہو اے تحریمِ آرزو
تُو جنتوں کا کوئی نام ہے کیا
پھر محبت کا ارادہ ہے اے دل
کہ تُو ناواقفِ انجام ہے کیا
جنوں کو اس سے سروکار نہیں
کہ پیچ و خم و زیر و بام ہے کیا
کہاں آئے ہو اے خیال راحت
تمہیں حضرت سے کوئی کام ہے کیا
حضرت سرحدی
No comments:
Post a Comment