عارفانہ کلام حمد نعت منقبت قوالی بر واقعۂ معراج
٭
سُہانی رات تھی اور پُرسکوں زمانہ تھا
اثر میں ڈُوبا ہوا جذبِ عاشقانہ تھا
انہِیں تو عرش پر محبوبؐ کو بُلانا تھا
ہوس تھی دِید کی، معراج کا بہانہ تھا
یہ کمالِ حُسن کا تھا معجزہ
کہ فراق حق بھی نہ سہہ سکا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت قوالی بر واقعۂ معراج
٭
سُہانی رات تھی اور پُرسکوں زمانہ تھا
اثر میں ڈُوبا ہوا جذبِ عاشقانہ تھا
انہِیں تو عرش پر محبوبؐ کو بُلانا تھا
ہوس تھی دِید کی، معراج کا بہانہ تھا
یہ کمالِ حُسن کا تھا معجزہ
کہ فراق حق بھی نہ سہہ سکا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مِری زندگی محمد مِری جستجو محمدﷺ
مِرا مدعا محمدﷺ مِری آرزو محمدﷺ
کبھی فرش پر عیاں ہیں کبھی عرش پر نہاں ہیں
کہیں نورِ کُل محمدﷺ کہیں شانِ ہُو محمدﷺ
مہ و مہر و انجمن میں، گُل و غنچہ و چمن میں
کہیں حُسنِ کُل محمدﷺ کہیں رنگ و بو محمدﷺ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ذرّے ذرّے سے ہے عیاں جلوۂ یکتا تیرا
قطرے قطرے میں نہاں حسنِ مجلّیٰ تیرا
مالک و خالقِ کُل ارض و سماں ہے تُو
از ازل تا ابد حکم ہے چلتا تیرا
حئی و قیوم ہے مُختارِ دو عالم تُو ہے
اور محتاج ہے ہر اعلیٰ و ادنیٰ تیرا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کس قدر افضل و اعلیٰ ہیں حسینؑ ابن علیؑ
یعنی توحید سراپا ہیں حسینؑ ابن علیؑ
جانِ احمدﷺ، دلِ زہراؑ، وقارِ حیدرؑ
اب خدا جانے کہ کیا کیا ہیں حسینؑ ابن علیؑ
فکرِ فردا، نہ غمِ حال، نہ ماضی کا خیال
میرے آقا، میرے مولا ہیں حسینؑ ابن علیؑ
تِرا خیال کر کے دل نشیں میں نے
مِٹا دیا ہے جو تھا فرق کُفر و دِیں میں نے
محبت اور محبت میں وسوسے دل کے
بنایا خود ہی زمانہ کو نکتہ چِیں میں نے
جنونِ عشق پہ اب دیکھیں کیا کہے دنیا
بنا لیا ہے گریباں کو آستیں میں نے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سرِ لامکاں سے طلب ہوئی
سُوئے منتہیٰ وہ چلے نبیؐ
کوئی حد نہ ان کے عروج کی
٭بلغ العلیٰ بکمالہٖ
یہی ابتداء یہی انتہاء
یہ فروغِ جلوہ حق نما