عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سرِ لامکاں سے طلب ہوئی
سُوئے منتہیٰ وہ چلے نبیؐ
کوئی حد نہ ان کے عروج کی
٭بلغ العلیٰ بکمالہٖ
یہی ابتداء یہی انتہاء
یہ فروغِ جلوہ حق نما
کہ جہان سارا چمک اٹھا
٭کشف الدجیٰ بجمالہٖ
رخِ مصطفیٰؐ کی یہ روشنی
یہ تجلیوں کی ہما ہمی
کہ ہر ایک چیز چمک اٹھی
٭کشف الدجیٰ بجمالہٖ
وہ سراپا رحمتِ کِبریا
کہ ہر اک پہ جن کا کرم ہوا
یہ کلامِ پاک ہے برملا
٭حسنت جمیع خصالہٖ
یہ کمالِ خُلقِ محمدیﷺ
کہ ہر اک پہ چشمِ کرم رہی
سرِ حشر نعرۂ اُمتی
٭حسنت جمیع خصالہٖ
وہی حق نگر، وہی حق نما
رُخ مصطفیٰﷺ ہے وہ آئینہ
کہ خدائے پاک نے خود کہا
٭صلو علیہِ و آلہٖ
مِرا دین عنبرِ وارثی
بخدا ہے عشقِ محمدیﷺ
مِرا ذکر و فکر ہے بس یہی
٭صلو علیہِ و آلہٖ
عنبر وارثی
٭ تضمین کلام شیخ سعدی شیرازی
کلام شیخ سعدی شیرازی بمع اردو ترجمہ
بلغ العلٰی بکمالہٖ
آپﷺ کے کمالات بہت اعلیٰ مرتبت تھے
کشف الدجیٰ بجمالہٖ
آپﷺ کے کردار کے جمال سے ظلمت دور ہو گئی
حسنت جمیع خصالہٖ
اعلی ترین انسانی خصائل آپﷺ کا وصف تھے
صلو علیہ و آلہٖ
آپﷺ پراور آپ کے اہل پر سلامتی اور رحمت ہو
No comments:
Post a Comment