Showing posts with label شہباز راجہ. Show all posts
Showing posts with label شہباز راجہ. Show all posts

Sunday, 2 February 2025

تھے بھی شاید کبھی مگر تو نہ تھے

 تھے بھی شاید کبھی مگر تو نہ تھے

مبتلا غم میں اس قدر مگر تو نہ تھے

ہم نے تنہا گزار دی اپنی

زندگی! تیرے ہمسفر مگر تو نہ تھے

جس قدر اب ہوئے ہیں ہم محدود

سلسلے اتنے مختصر مگر تو نہ تھے

Saturday, 29 May 2021

تمہارے بعد کہاں کچھ نظر میں رکھتے ہیں

 تمہارے بعد کہاں کچھ نظر میں رکھتے ہیں

بجھے چراغ فقط اپنے گھر میں رکھتے ہیں

سکوتِ کنجِ قفس سے ہیں مضمحل، ورنہ

غضب کے حوصلے ہم بال و پر میں رکھتے ہیں

رواں دواں ہیں سہولت سے منزلوں کی طرف

تمہاری یاد جو رختِ سفر میں رکھتے ہیں

Tuesday, 25 May 2021

فائدہ کیا حسرت بے رنگ کی تکمیل سے

 فائدہ کیا حسرتِ بے رنگ کی تکمیل سے

اس لیے نکلے نہیں ہم شوق کی تحویل سے

وہ سرِ محفل بڑھاتے جا رہے ہیں گفتگو

میں مگر کترا رہا ہوں بات کی تفصیل سے

وحشت و واماندگی بھی اب نہیں ہے جسم میں

اور میں آزاد ہوں ہر خواب کی تاویل سے