تھے بھی شاید کبھی مگر تو نہ تھے
مبتلا غم میں اس قدر مگر تو نہ تھے
ہم نے تنہا گزار دی اپنی
زندگی! تیرے ہمسفر مگر تو نہ تھے
جس قدر اب ہوئے ہیں ہم محدود
سلسلے اتنے مختصر مگر تو نہ تھے
تھے بھی شاید کبھی مگر تو نہ تھے
مبتلا غم میں اس قدر مگر تو نہ تھے
ہم نے تنہا گزار دی اپنی
زندگی! تیرے ہمسفر مگر تو نہ تھے
جس قدر اب ہوئے ہیں ہم محدود
سلسلے اتنے مختصر مگر تو نہ تھے
تمہارے بعد کہاں کچھ نظر میں رکھتے ہیں
بجھے چراغ فقط اپنے گھر میں رکھتے ہیں
سکوتِ کنجِ قفس سے ہیں مضمحل، ورنہ
غضب کے حوصلے ہم بال و پر میں رکھتے ہیں
رواں دواں ہیں سہولت سے منزلوں کی طرف
تمہاری یاد جو رختِ سفر میں رکھتے ہیں
فائدہ کیا حسرتِ بے رنگ کی تکمیل سے
اس لیے نکلے نہیں ہم شوق کی تحویل سے
وہ سرِ محفل بڑھاتے جا رہے ہیں گفتگو
میں مگر کترا رہا ہوں بات کی تفصیل سے
وحشت و واماندگی بھی اب نہیں ہے جسم میں
اور میں آزاد ہوں ہر خواب کی تاویل سے