Showing posts with label اظہر کمال. Show all posts
Showing posts with label اظہر کمال. Show all posts

Friday, 10 July 2026

میرا دل جلاتے ہو بارشوں کے موسم میں

 میرا دل جلاتے ہو بارشوں کے موسم میں

کتنا یاد آتے ہو بارشوں کے موسم میں

کس کی کاغذی کشتی جھیل میں ڈبوتے ہو

اب کیسے ستاتے ہو بارشوں کے موسم میں

عقل کے پُجاری تو اِک ہوا سے ڈرتے ہیں

تم دِیے جلاتے ہو بارشوں کے موسم میں

Saturday, 6 December 2025

چرا لایا ہوں خود کا اپنا سایہ چھوڑ آیا ہوں

 چرا لایا ہوں خود کا اپنا سایہ چھوڑ آیا ہوں

میں اُس کے آئینے میں اپنا چہرہ چھوڑ آیا ہوں

اب آنکھوں میں بسالے یا سپردِ آگ کر ڈالے

میں اُس کی ڈائری میں ایک سپنا چھوڑ آیا ہوں

اب آگے دیکھنا ہے زندگی کیا شکل دیتی ہے

میں چلتے چاک پہ خود کو ادھورا چھوڑ آیا ہوں

Monday, 28 October 2024

جس کی خواہش تھی چلے وقت کی رفتار کے ساتھ

 جس کی خواہش تھی چلے وقت کی رفتار کے ساتھ

آج وہ شخص زمیں بوس ہے دستار کے ساتھ

گو منافق ہے مگر پھر بھی حسیں لگتا ہے

جب بھی ملتا ہے وہ ملتا ہے بڑے پیار کے ساتھ

تُو اگر اے مِرے سالار اسی میں خوش ہے

رہن رکھ دیتے ہیں دستار بھی تلوار کے ساتھ

Thursday, 12 September 2024

وہی رات بھر تجھے سوچنا وہی چاہتوں کے نصاب ہیں

 وہی رات بھر تجھے سوچنا وہی چاہتوں کے نصاب ہیں

یہ بڑے طویل ہیں سلسلے یہ بڑے طویل عذاب ہیں

ہمیں روز ملتی ہیں سازشیں یہاں دوستی کے لباس میں

یہاں ہر قدم پہ فریب ہیں یہاں ہر طرف ہی سراب ہیں

یہ کرم ہے ربِ کریم کا مجھے اتنے رنگ عطا کیے

جو مٹا رہے تھے نشاں مِرا نہ سوال ہیں نہ جواب ہیں