میرا دل جلاتے ہو بارشوں کے موسم میں
کتنا یاد آتے ہو بارشوں کے موسم میں
کس کی کاغذی کشتی جھیل میں ڈبوتے ہو
اب کیسے ستاتے ہو بارشوں کے موسم میں
عقل کے پُجاری تو اِک ہوا سے ڈرتے ہیں
تم دِیے جلاتے ہو بارشوں کے موسم میں
میرا دل جلاتے ہو بارشوں کے موسم میں
کتنا یاد آتے ہو بارشوں کے موسم میں
کس کی کاغذی کشتی جھیل میں ڈبوتے ہو
اب کیسے ستاتے ہو بارشوں کے موسم میں
عقل کے پُجاری تو اِک ہوا سے ڈرتے ہیں
تم دِیے جلاتے ہو بارشوں کے موسم میں
چرا لایا ہوں خود کا اپنا سایہ چھوڑ آیا ہوں
میں اُس کے آئینے میں اپنا چہرہ چھوڑ آیا ہوں
اب آنکھوں میں بسالے یا سپردِ آگ کر ڈالے
میں اُس کی ڈائری میں ایک سپنا چھوڑ آیا ہوں
اب آگے دیکھنا ہے زندگی کیا شکل دیتی ہے
میں چلتے چاک پہ خود کو ادھورا چھوڑ آیا ہوں
جس کی خواہش تھی چلے وقت کی رفتار کے ساتھ
آج وہ شخص زمیں بوس ہے دستار کے ساتھ
گو منافق ہے مگر پھر بھی حسیں لگتا ہے
جب بھی ملتا ہے وہ ملتا ہے بڑے پیار کے ساتھ
تُو اگر اے مِرے سالار اسی میں خوش ہے
رہن رکھ دیتے ہیں دستار بھی تلوار کے ساتھ
وہی رات بھر تجھے سوچنا وہی چاہتوں کے نصاب ہیں
یہ بڑے طویل ہیں سلسلے یہ بڑے طویل عذاب ہیں
ہمیں روز ملتی ہیں سازشیں یہاں دوستی کے لباس میں
یہاں ہر قدم پہ فریب ہیں یہاں ہر طرف ہی سراب ہیں
یہ کرم ہے ربِ کریم کا مجھے اتنے رنگ عطا کیے
جو مٹا رہے تھے نشاں مِرا نہ سوال ہیں نہ جواب ہیں