رہِ عذابِ مُسلسل سے دُور آ نِکلا
شعور ہیکرِ مشعل سے دور آ نکلا
اب ایک پل کو بھی سایہ اسے نصیب کہاں
خود اپنی ماں کو جو آنچل سے دور آ نکلا
تمہارے شہر میں جینے کی آرزو لے کر
میں اپنی رُوح کے مقتل سے دور آ نکلا
کیا جو نام درختوں نے سرفروشی میں
مِرا مکان بھی جنگل سے دور آ نکلا
وہ صبح زاد ہے خالد ہے، غیر فانی ہے
جو وہم و یاس کے دلدل سے دور آ نکلا
ایم جے خالد
No comments:
Post a Comment