Monday, 12 October 2026

کوئی خیال نہ آیا ترے خیال کے بعد

 سبک ہوں اپنی نگاہوں میں عرض حال کے بعد

کہ آبرو نہیں رہتی کبھی سوال کے بعد

نہ پوچھو دل کو ہوئی ہیں اذیتیں کیا کیا

کبھی سوال سے پہلے کبھی سوال کے بعد

ضمیر کی وہ مسلسل ملامتیں توبہ

ملا ہے دل کو سکوں اشک انفعال کے بعد

قرار دل کو نہیں تھا قرار دل کو نہیں

ترے وصال سے پہلے ترے وصال کے بعد

ترے عتاب سہے صبر سے تو لطف ہوا

ترا جمال بھی دیکھا ترے جلال کے بعد

ظن و گماں سے گزر کر ترا خیال آیا

کوئی خیال نہ آیا ترے خیال کے بعد

میں دل تو ہار چکا جان و مال حاضر ہیں

خلش کے پاس ہے کیا اور جان و مال کے بعد


خلش کلکتوی

رشید الزماں

No comments:

Post a Comment