Showing posts with label غالب ایاز. Show all posts
Showing posts with label غالب ایاز. Show all posts

Wednesday, 10 March 2021

جہاں خراب سہی ہم بدن دریدہ سہی

 جہاں خراب سہی ہم بدن دریدہ سہی

تِری تلاش میں نکلے ہیں پا بریدہ سہی

جہان شعر میں میری کئی ریاستیں ہیں

میں اپنے شہر میں گمنام و ناشنیدہ سہی

بھلے ہی چھاؤں نہ دے آسرا تو دیتا ہے

یہ آرزو کا شجر ہے خزاں رسیدہ سہی

Friday, 5 March 2021

حسن کے زیر بار ہو کہ نہ ہو

 حسن کے زیر بار ہو کہ نہ ہو

اب یہ دل بے قرار ہو کہ نہ ہو

مرگِ انبوہ دیکھ آتے ہیں

آنکھ پھر اشکبار ہو کہ نہ ہو

کربِ پیہم سے ہو گیا پتھر

اب یہ سینہ فگار ہو کہ نہ ہو

Thursday, 4 March 2021

کبھی گمان کبھی اعتبار بن کے رہا

 کبھی گمان کبھی اعتبار بن کے رہا

دیار چشم میں وہ انتظار بن کے رہا

ہزار خواب مِری ملکیت میں شامل تھے

میں تیرے عشق میں سرمایہ دار بن کے رہا

تمام عمر اسے چاہنا نہ تھا ممکن

کبھی کبھی تو وہ اس دل پہ بار بن کے رہا

Wednesday, 3 March 2021

ہوا کے ہونٹ کھلیں ساعت کلام تو آئے

 ہوا کے ہونٹ کھلیں ساعت کلام تو آئے

یہ ریت جیسا بدن آندھیوں کے کام تو آئے

منافقت کی سبھی تہمتیں مجھے دے دے

مِرے طفیل رفیقوں میں تیرا نام تو آئے

اسے اداس نہ کر دے یہ میری سست روی

میں اب کے سُست چلوں وہ سُبک خرام تو آئے

Tuesday, 2 March 2021

درد جب دسترس چارہ گراں سے نکلا

درد جب دسترسِ چارہ گراں سے نکلا

حرفِ انکار محبت کی زباں سے نکلا

زندگانی میں سبھی رنگ تھے محرومی کے

تجھ کو دیکھا تو میں احساسِ زیاں سے نکلا

سب بہ آسانی مِرے خواب کو پڑھ لیتے تھے

پھر تو میں انجمنِ دل زدگاں سے نکلا

Monday, 1 March 2021

جبین شوق پہ گرد ملال چاہتی ہے

 جبینِ شوق پہ گردِ ملال چاہتی ہے 

مِری حیات سفر کا مآل چاہتی ہے 

میں وسعتوں کا طلبگار اپنے عشق میں ہوں 

وہ میری ذات میں اک یرغمال چاہتی ہے 

ہمیں خبر ہے کہ اس مہرباں کی چارہ گری 

ہمارے زخموں کا کب اندمال چاہتی ہے 

Monday, 14 December 2020

بس تیرے لیے اداس آنکھیں

 بس تیرے لیے اداس آنکھیں

اف، مصلحت نا شناس آنکھیں

بے نور ہوئی ہیں دھیرے دھیرے

آئیں نہیں مجھ کو راس آنکھیں

آخر کو گیا، وہ کاش رکتا

کرتی رہیں التماس آنکھیں