جہاں خراب سہی ہم بدن دریدہ سہی
تِری تلاش میں نکلے ہیں پا بریدہ سہی
جہان شعر میں میری کئی ریاستیں ہیں
میں اپنے شہر میں گمنام و ناشنیدہ سہی
بھلے ہی چھاؤں نہ دے آسرا تو دیتا ہے
یہ آرزو کا شجر ہے خزاں رسیدہ سہی
جہاں خراب سہی ہم بدن دریدہ سہی
تِری تلاش میں نکلے ہیں پا بریدہ سہی
جہان شعر میں میری کئی ریاستیں ہیں
میں اپنے شہر میں گمنام و ناشنیدہ سہی
بھلے ہی چھاؤں نہ دے آسرا تو دیتا ہے
یہ آرزو کا شجر ہے خزاں رسیدہ سہی
حسن کے زیر بار ہو کہ نہ ہو
اب یہ دل بے قرار ہو کہ نہ ہو
مرگِ انبوہ دیکھ آتے ہیں
آنکھ پھر اشکبار ہو کہ نہ ہو
کربِ پیہم سے ہو گیا پتھر
اب یہ سینہ فگار ہو کہ نہ ہو
کبھی گمان کبھی اعتبار بن کے رہا
دیار چشم میں وہ انتظار بن کے رہا
ہزار خواب مِری ملکیت میں شامل تھے
میں تیرے عشق میں سرمایہ دار بن کے رہا
تمام عمر اسے چاہنا نہ تھا ممکن
کبھی کبھی تو وہ اس دل پہ بار بن کے رہا
ہوا کے ہونٹ کھلیں ساعت کلام تو آئے
یہ ریت جیسا بدن آندھیوں کے کام تو آئے
منافقت کی سبھی تہمتیں مجھے دے دے
مِرے طفیل رفیقوں میں تیرا نام تو آئے
اسے اداس نہ کر دے یہ میری سست روی
میں اب کے سُست چلوں وہ سُبک خرام تو آئے
درد جب دسترسِ چارہ گراں سے نکلا
حرفِ انکار محبت کی زباں سے نکلا
زندگانی میں سبھی رنگ تھے محرومی کے
تجھ کو دیکھا تو میں احساسِ زیاں سے نکلا
سب بہ آسانی مِرے خواب کو پڑھ لیتے تھے
پھر تو میں انجمنِ دل زدگاں سے نکلا
جبینِ شوق پہ گردِ ملال چاہتی ہے
مِری حیات سفر کا مآل چاہتی ہے
میں وسعتوں کا طلبگار اپنے عشق میں ہوں
وہ میری ذات میں اک یرغمال چاہتی ہے
ہمیں خبر ہے کہ اس مہرباں کی چارہ گری
ہمارے زخموں کا کب اندمال چاہتی ہے
بس تیرے لیے اداس آنکھیں
اف، مصلحت نا شناس آنکھیں
بے نور ہوئی ہیں دھیرے دھیرے
آئیں نہیں مجھ کو راس آنکھیں
آخر کو گیا، وہ کاش رکتا
کرتی رہیں التماس آنکھیں