Thursday, 4 March 2021

کبھی گمان کبھی اعتبار بن کے رہا

 کبھی گمان کبھی اعتبار بن کے رہا

دیار چشم میں وہ انتظار بن کے رہا

ہزار خواب مِری ملکیت میں شامل تھے

میں تیرے عشق میں سرمایہ دار بن کے رہا

تمام عمر اسے چاہنا نہ تھا ممکن

کبھی کبھی تو وہ اس دل پہ بار بن کے رہا

اسی کے نام کروں میں تمام عہد خیال

درون جاں جو مِرے سوگوار بن کے رہا

اگرچہ شہر میں ممنوع تھی حمایت خواب

مگر یہ دل سبب انتشار بن کے رہا


غالب ایاز

No comments:

Post a Comment