Thursday, 4 March 2021

جن کو ہے بات کا ڈھب نہیں بولتے

 جن کو ہے بات کا ڈھب نہیں بولتے

ظرف ہیں جو لبا لب نہیں بولتے

بولنے پر نہ یوں ہم کو مجبور کر

ہم نہیں بولتے، جب نہیں بولتے

ہم کو معلوم ہے گفتگو کس سے ہے

ہم کو معلوم ہے، کب نہیں بولتے

گفتگو کے بھی آخر کچھ آداب ہیں

بھائی! محفل میں یوں سب نہیں بولتے

کیسے کیسے نہ تھے قصہ گو شہر میں

بولتے تھے کبھی،اب نہیں بولتے

آدمی چاہیے بولنے کے لیے

عہدہ و جاہ و منصب نہیں بولتے

ماہ و انجم بھی کرتے ہیں سر گوشیاں

صرف چشم و رخ و لب نہیں بولتے

چپ لگی ہے ہماری زبانوں کو کیوں؟

کس لیے آپ ہم اب نہیں بولتے؟


ضیا الحسن

No comments:

Post a Comment