سوچا میں ایک شب کہ ہوں یا نہیں ہوں میں
کیا آسماں پہ ہوں، یا بر زمیں ہوں میں
اس طوطئ خیال کے پر تھی نہ بال تھے
اڑنے لگا خیال کہ تنہا نہیں ہوں میں
جانا میں جب کہ دنیا ہی کافر کی جا ہے
جانے لگا سفر سے، خدا را نہیں ہوں میں
سوچا میں ایک شب کہ ہوں یا نہیں ہوں میں
کیا آسماں پہ ہوں، یا بر زمیں ہوں میں
اس طوطئ خیال کے پر تھی نہ بال تھے
اڑنے لگا خیال کہ تنہا نہیں ہوں میں
جانا میں جب کہ دنیا ہی کافر کی جا ہے
جانے لگا سفر سے، خدا را نہیں ہوں میں
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
رقم کرتا ہے سعدی وصف کچھ اپنے پیمبر کا
پیمبرﷺ جو ازل سے ہیں، حبیب اللہ اکبر کا
پیمبر یوں تو آئے ہیں بہت سے اس خرابے میں
مگر عاصی کی خاطر ہے، وہی شافع محشر کا
نبیوں کو وصیوں کو فخر ہے فخرِ احمدﷺ پر
بتاؤ تو سہی، حیدرؑ سا وصی ہے کس پیمبر کا
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
بشر کے مایۂ اخلاق پر جب بھی زوال آیا
تو میزانِ عمل لے، ہر نبئ بے مثال آیا
مگر خُلقِ عمل کو تاج پہنانے جو آیا ہے
بشر کے بھیس میں فوق البشر، یہ ہلال آیا
بشارت اس گہر کی دی مسیحِ مجتبائی نے
کہ احمدؐ نام ہے اِس کا، طبیبِ باکمال آیا
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
محمدؐ مصطفیٰؐ کا میرے لب پر جب بھی نام آیا
ملائک کے زبان پر بھی درود و صد سلام آیا
مبارک قول باری ہے، اسی کا قولِ ساری ہے
پڑھا اللہ نے واں تو، یہاں بھی لب پہ نام آیا
محمدؐ مصطفیٰؐ کا میرے لب پر جب بھی نام آیا
سر و قامت بھی خم اور دل سے از حد سلام آیا
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
نبی کا سایۂ رحمت
کسی کے سر پہ ہے ظلِ ہمایونی کا ہمسایہ
کسی پر سایۂ جن یا مہر و ماہ کا سایہ
کسی کا دل، دلِ بے چین، جانا دل کا جب سایہ
کوئی سایہ میں آتا ہے، کسی سے دور ہے سایہ
مگر مؤمن کے سر پر ہے رسول اللہ کا سایہ
اسی کے سایۂ رحمت میں ہے تقدیر کا سایہ
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
محمد مصطفیٰؐ کا میرے لب پر جب بھی نام آیا
ملائک کے زبان پر بھی درود و صد سلام آیا
مبارک قول باری ہے، اسی کا قول ساری ہے
پڑھا اللہ نے واں تو، یہاں بھی لب پہ نام آیا
محمدؐ مصطفیٰؐ کا میرے لب پر جب بھی نام آیا
سر و قامت بھی خم اور دل سے از حد سلام آیا
اپنی آنکھوں سے کوئی آج دعا کر دیکھیں
لب کو سینے کی صدا آج سنا کر دیکھیں
نہر خاموش بھلا کیوں ہے بہتے بہتے
اپنے خوایش کے ہی پتھر کو ڈُبا کر دیکھیں
دلِ بے تاب کی دنیا کے گلی کوچے بہت
دل کے خانے میں انہیں پھر سے بُلا کر دیکھیں
ماں
ماں کے سادے لفظ میں کیسے سما جاتی ہے ماں
کائناتِ امن میں جیسے سنور جاتی ہے ماں
کتنا چھوٹا لفظ، پر کتنی بڑی ہوتی ہے ماں
ماں کہو یا نہ کہو، لیکن وہی ہوتی ہے ماں
بارشوں کی بھیڑ میں جیسے ہو برساتی ہے ماں
چلچلاتی دھوپ میں سایہ بن جاتی ہے ماں