Showing posts with label سعداللہ سعدی. Show all posts
Showing posts with label سعداللہ سعدی. Show all posts

Wednesday, 31 May 2023

سوچا میں ایک شب کہ ہوں یا نہیں ہوں میں

 سوچا میں ایک شب کہ ہوں یا نہیں ہوں میں

کیا آسماں پہ ہوں، یا بر زمیں ہوں میں

اس طوطئ خیال کے پر تھی نہ بال تھے

اڑنے لگا خیال کہ تنہا نہیں ہوں میں

جانا میں جب کہ دنیا ہی کافر کی جا ہے

جانے لگا سفر سے، خدا را نہیں ہوں میں

Saturday, 13 May 2023

رقم کرتا ہے سعدی وصف کچھ اپنے پیمبر کا

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


رقم کرتا ہے سعدی وصف کچھ اپنے پیمبر کا

پیمبرﷺ جو ازل سے ہیں، حبیب اللہ اکبر کا

پیمبر یوں تو آئے ہیں بہت سے اس خرابے میں

مگر عاصی کی خاطر ہے، وہی شافع محشر کا

نبیوں کو وصیوں کو فخر ہے فخرِ احمدﷺ پر

بتاؤ تو سہی، حیدرؑ سا وصی ہے کس پیمبر کا

Friday, 12 May 2023

بشر کے مایۂ اخلاق پر جب بھی زوال آیا

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


بشر کے مایۂ اخلاق پر جب بھی زوال آیا​

تو میزانِ عمل لے، ہر نبئ بے مثال آیا​

مگر خُلقِ عمل کو تاج پہنانے جو آیا ہے ​

بشر کے بھیس میں فوق البشر، یہ ہلال آیا ​

بشارت اس گہر کی دی مسیحِ مجتبائی نے​

کہ احمدؐ نام ہے اِس کا، طبیبِ باکمال آیا

Thursday, 11 May 2023

محمد مصطفیٰ کا میرے لب پر جب بھی نام آیا

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


محمدؐ مصطفیٰؐ کا میرے لب پر جب بھی نام آیا​

ملائک کے زبان پر بھی درود و صد سلام آیا​

مبارک قول باری ہے، اسی کا قولِ ساری ہے​

پڑھا اللہ نے واں تو، یہاں بھی لب پہ نام آیا​

محمدؐ مصطفیٰؐ کا میرے لب پر جب بھی نام آیا​

سر و قامت بھی خم اور دل سے از حد سلام آیا

Wednesday, 10 May 2023

کسی کے سر پہ ہے ظل ہمایونی کا ہمسایہ ​

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت

نبی کا سایۂ رحمت ​

کسی کے سر پہ ہے ظلِ ہمایونی کا ہمسایہ ​

کسی پر سایۂ جن یا مہر و ماہ کا سایہ ​

کسی کا دل، دلِ بے چین، جانا دل کا جب سایہ ​

کوئی سایہ میں آتا ہے، کسی سے دور ہے سایہ ​

مگر مؤمن کے سر پر ہے رسول اللہ کا سایہ ​

اسی کے سایۂ رحمت میں ہے تقدیر کا سایہ ​

Sunday, 7 May 2023

محمد مصطفیٰ کا میرے لب پر جب بھی نام آیا

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


محمد مصطفیٰؐ کا میرے لب پر جب بھی نام آیا​

ملائک کے زبان پر بھی درود و صد سلام آیا​

مبارک قول باری ہے، اسی کا قول ساری ہے​

پڑھا اللہ نے واں تو، یہاں بھی لب پہ نام آیا​

محمدؐ مصطفیٰؐ کا میرے لب پر جب بھی نام آیا​

سر و قامت بھی خم اور دل سے از حد سلام آیا

Monday, 17 October 2022

اپنی آنکھوں سے کوئی آج دعا کر دیکھیں

اپنی آنکھوں سے کوئی آج دعا کر دیکھیں

لب کو سینے کی صدا آج سنا کر دیکھیں

نہر خاموش بھلا کیوں ہے بہتے بہتے

اپنے خوایش کے ہی پتھر کو ڈُبا کر دیکھیں

دلِ بے تاب کی دنیا کے گلی کوچے بہت

دل کے خانے میں انہیں پھر سے بُلا کر دیکھیں

Sunday, 25 July 2021

ماں کے سادے لفظ میں کیسے سما جاتی ہے ماں

ماں


ماں کے سادے لفظ میں کیسے سما جاتی ہے ماں

کائناتِ امن میں جیسے سنور جاتی ہے ماں

کتنا چھوٹا لفظ، پر کتنی بڑی ہوتی ہے ماں

ماں کہو یا نہ کہو، لیکن وہی ہوتی ہے ماں

بارشوں کی بھیڑ میں جیسے ہو برساتی ہے ماں

چلچلاتی دھوپ میں سایہ بن جاتی ہے ماں