Thursday, 16 July 2026

ٹھوکریں کھایا ہوا پتھر خدا ہونا ہی تھا

 ٹھوکریں کھایا ہوا پتھر خُدا ہونا ہی تھا

میرے گِر جانے سے اس کا قد بڑا ہونا ہی تھا

اس شجر کے سُوکھ جانے کا سبب تنہائی تھی

اک پرندہ آ کے بیٹھا تو ہرّا ہونا ہی تھا

دام کچھ اپنے زیادہ لگ رہے تھے ان دنوں

پھر ہمیں بازار میں سب سے جُدا ہونا ہی تھا

اب عمارت ڈھ رہی ہے جسم کی تو خوف کیوں

بارشوں میں بھیگنے کا شوق تھا، ہونا ہی تھا

سب کو حیرت ہے کہ میں تُجھ سے بچھڑ کیسے گیا

کچھ نہ کچھ تو اس کہانی میں نیا ہونا ہی تھا


ارشاد انجم

No comments:

Post a Comment