Monday, 6 July 2026

تم میرے پاس آؤ تو کوئی غزل کہوں

 تم میرے پاس آؤ تو کوئی غزل کہوں

عہدِ وفا نبھاؤ تو کوئی غزل کہوں

نغمے بکھیر دوں گی محبت کی راہ میں

تم میرے ساتھ آؤ تو کوئی غزل کہوں

کیوں دور دور رہ کے بسے ہو خیال میں

ویران گھر سجاؤ تو کوئی غزل کہوں

مہندی رچاؤں گی میں تمہارے ہی نام کی

دُلہن مجھے بناؤ تو کوئی غزل کہوں

دل بن کے تو دھڑکتے ہو پہلو میں رات دن

اپنا کبھی بناؤ تو کوئی غزل کہوں

چھت سے اتر کے آ گئی آنگن میں چاندنی

ایسے میں تم بھی آؤ تو کوئی غزل کہوں

کیوں سر جھکائے بیٹھی ہو خاموش اے صبا

چہرہ ذرا دکھاؤ تو کوئی غزل کہوں


پروین صبا

No comments:

Post a Comment