Sunday, 5 July 2026

گزرے گی کیا جمال رخ یار دیکھ کر

 گُزرے گی کیا جمالِ رُخِ یار دیکھ کر

حیرت ہے حُسن حسرتِ دِیدار دیکھ کر

نا سازیٔ جہاں کی تو پروا کبھی نہ تھی

جی بُجھ گیا ہے تم کو💔 دلآزار دیکھ کر

اس دِلفگارِ شوق کی حسرت نہ پُوچھیے

مجرُوح ہو گیا ہو جو تلوار 🗡 دیکھ کر

آنکھیں ہوئی تھیں چار کہ پہلو میں کچھ نہ تھا

دل کھو گیا نگاہِ خریدار دیکھ کر💖

کوئی کُھلا ہوا ہے تو کوئی چُھپا ہوا

واعظ نہ چھیڑ مجھ کو گُناہگار دیکھ کر

بے تاب کر دیا نِگہِ اِلتفات نے

آنسُو نکل پڑے انہیں غمخوار دیکھ کر

کوکب دیارِ عشق کچھ ایسا اُداس ہے

روتی ہے بیکسی در و دیوار دیکھ کر


کوکب شاہجہانپوری

No comments:

Post a Comment