Showing posts with label نسیم اجمل. Show all posts
Showing posts with label نسیم اجمل. Show all posts

Wednesday, 11 June 2025

نہ کوئی شام تھی اس دن کی نہ سویرا تھا

 نہ کوئی شام تھی اس دن کی نہ سویرا تھا

نہ کوئی عکس تھا اس میں نہ کوئی چہرہ تھا

شب خیال میں کچھ تیرتی سی کرنیں تھی

فراز فکر کے اوپر چراغ میرا تھا

ستارے دیکھ کے اس کو چراغ پا تھے بہت

وہ چاند اپنی حویلی سے آج نکلا تھا

Tuesday, 29 April 2025

اکیلی رات تھی چاروں طرف اندھیرا تھا

 اکیلی رات تھی چاروں طرف اندھیرا تھا

اور ایک پیڑ سے میرا ہی ہاتھ نکلا تھا

عجیب دھن تھی کہ بڑھتے ہی جا رہے تھے قدم

ہر اک طرف سے مجھے آندھیوں نے گھیرا تھا

نظر تو آئے تھے ہم کو بھی پاؤں اٹھتے ہوئے

پھر اس کے بعد بہت دور تک اندھیرا تھا

Thursday, 8 July 2021

چاند تاروں کو ضیا دیتا ہے

چاند تاروں کو ضیا دیتا ہے

مجھ کو مجھ سے وہ ملا دیتا ہے

یوں بھی ہوتا ہے کبھی رات گئے

یک بیک مجھ کو جگا دیتا ہے

آنکھ کھولوں تو وہ ہنستا ہے بہت

خواب دیکھوں تو ڈرا دیتا ہے

Monday, 5 July 2021

اک سمندر سا گرا تھا مجھ میں

اک سمندر سا گرا تھا مجھ میں

پھر بہت شور ہوا تھا مجھ میں

راستے سارے ہی مانوس سے تھے

اک فقط میں ہی نیا تھا مجھ میں

میں بھی تصویر سا چسپاں تھا کہیں

سانحہ یہ بھی ہوا تھا مجھ میں