نہ کوئی شام تھی اس دن کی نہ سویرا تھا
نہ کوئی عکس تھا اس میں نہ کوئی چہرہ تھا
شب خیال میں کچھ تیرتی سی کرنیں تھی
فراز فکر کے اوپر چراغ میرا تھا
ستارے دیکھ کے اس کو چراغ پا تھے بہت
وہ چاند اپنی حویلی سے آج نکلا تھا
نہ کوئی شام تھی اس دن کی نہ سویرا تھا
نہ کوئی عکس تھا اس میں نہ کوئی چہرہ تھا
شب خیال میں کچھ تیرتی سی کرنیں تھی
فراز فکر کے اوپر چراغ میرا تھا
ستارے دیکھ کے اس کو چراغ پا تھے بہت
وہ چاند اپنی حویلی سے آج نکلا تھا
اکیلی رات تھی چاروں طرف اندھیرا تھا
اور ایک پیڑ سے میرا ہی ہاتھ نکلا تھا
عجیب دھن تھی کہ بڑھتے ہی جا رہے تھے قدم
ہر اک طرف سے مجھے آندھیوں نے گھیرا تھا
نظر تو آئے تھے ہم کو بھی پاؤں اٹھتے ہوئے
پھر اس کے بعد بہت دور تک اندھیرا تھا
چاند تاروں کو ضیا دیتا ہے
مجھ کو مجھ سے وہ ملا دیتا ہے
یوں بھی ہوتا ہے کبھی رات گئے
یک بیک مجھ کو جگا دیتا ہے
آنکھ کھولوں تو وہ ہنستا ہے بہت
خواب دیکھوں تو ڈرا دیتا ہے
اک سمندر سا گرا تھا مجھ میں
پھر بہت شور ہوا تھا مجھ میں
راستے سارے ہی مانوس سے تھے
اک فقط میں ہی نیا تھا مجھ میں
میں بھی تصویر سا چسپاں تھا کہیں
سانحہ یہ بھی ہوا تھا مجھ میں