Friday, 5 June 2026

بہت ہم یاد آئیں گے کسی دن دیکھ لینا

 بہت ہم یاد آئیں گے کسی دن دیکھ لینا

چلے اس پار جائیں گے کسی دن دیکھ لینا

زمانہ تو پُکارے گا ہمیں آواز دے کر

پلٹ کر ہم نہ آئیں گے کسی دن دیکھ لینا

رہے پیاسے سدا ہی آپ کے در پر، مگر ہم

گھٹا بن بن کے چھائیں گے کسی دن دیکھ لینا

کسی مجبور کے حالات پر جو ہنس رہے ہیں

وہ آنسو بھی بہائیں گے کسی دن دیکھ لینا

بیعانہ لے چکے ہیں بیچ ڈالیں گے چمن کو

یہ کیا کیا گُل کِھلائیں گے کسی دن دیکھ لینا


دکشت دنکوری

No comments:

Post a Comment