بہت ہم یاد آئیں گے کسی دن دیکھ لینا
چلے اس پار جائیں گے کسی دن دیکھ لینا
زمانہ تو پُکارے گا ہمیں آواز دے کر
پلٹ کر ہم نہ آئیں گے کسی دن دیکھ لینا
رہے پیاسے سدا ہی آپ کے در پر، مگر ہم
گھٹا بن بن کے چھائیں گے کسی دن دیکھ لینا
کسی مجبور کے حالات پر جو ہنس رہے ہیں
وہ آنسو بھی بہائیں گے کسی دن دیکھ لینا
بیعانہ لے چکے ہیں بیچ ڈالیں گے چمن کو
یہ کیا کیا گُل کِھلائیں گے کسی دن دیکھ لینا
دکشت دنکوری
No comments:
Post a Comment