Sunday, 14 June 2026

ہوا چلتی ہے دل کہتا ہے کب ان سے ملیں گے

 ہوا چلتی ہے، دل کہتا ہے، کب اُن سے ملیں گے

بدن سے جاں نکل جائے گی، تب اُن سے ملیں گے

تمہیں تو خیر دل کی بات کہنی ہے کسی طور

مگر کچھ لوگ ہیں جو بے سبب اُن سے ملیں گے

ہوئے تھے میر بھی رُسوا محبت میں کسی دن

بھُلا کر ہم بھی اب نام و نسب اُن سے ملیں گے

بہت خوش ہیں کہ نظارہ کریں گے، دید ہو گی

نظر کیسے اُٹھا پائیں گے، جب اُن سے ملیں گے

یہی احساس کھائے جا رہا ہے جان و دل کو

کہ سر پر برف اُتر آئی اور اب اُن سے ملیں گے

حسن ملنے کی خواہش تو بہت ہے عُمر بھر سے

بکھر جائیں گے سا رے خواب، جب اُن سے ملیں گے


حسن جمیل

No comments:

Post a Comment