Showing posts with label ساغر خیامی. Show all posts
Showing posts with label ساغر خیامی. Show all posts

Saturday, 29 July 2023

سر حسین سناں پہ جدھر سے گزرا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


سرِ حسینؑ سِناں پہ جِدھر سے گُزرا ہے

خدا کا نام اسی رہ گزر سے گزرا ہے

نبیؐ کے فرش سے عرشِ بریں کے پردے تک

علیؑ ہر اک مقامِ خبر سے گزرا ہے

نہیں ہے اب کوئی معراجِ مصطفیٰؐ میں گماں

بشر کا قافلہ شہرِ قمر سے گزرا ہے

Sunday, 30 October 2022

بیزار ہو گئے تھے جو شاعر حیات سے

 کرکٹ میچ


بیزار ہو گئے تھے جو شاعر حیات سے

کرکٹ کا میچ کھیل لیا شاعرات سے

واقف نہ تھے جو دوستو! عورت کی ذات سے

چوکے لگا رہے تھے خیالوں میں رات سے


آئی جو صبح شام کے نقشے بگڑ گئے

سروں سے ہم غریبوں کے اسٹمپ اکھڑ گئے

Saturday, 25 June 2022

جو آم میں ہے وہ لب شیریں میں نہیں رس

 در مدحِ آم


جو آم میں ہے وہ لبِ شیریں میں نہیں رس

ریشوں میں ہے جو شیخ کی داڑھی سے مقدس

آتے ہیں نظر آم تو جاتے ہیں بدن کَس

لنگڑے بھی چلے آتے ہیں کھانے کو بنارس

ہونٹوں میں حسینوں کے جو امرس کا مزا ہے

یہ پھل کسی عاشق کی محبت کا صِلہ ہے

Wednesday, 26 August 2020

ساری جفائیں سارے کرم یاد آ گئے

ساری جفائیں، سارے کرم یاد آ گئے
جیسے بھی یاد آئے ہوں ہم یاد آ گئے
جب بھی کہیں سے پیار ملا یا خوشی ملی
دنیا کے درد و رنج الم یاد آ گئے
دیکھیں ہیں جب بھی گل کے قریں چند تتلیاں
کتنے خیال و خواب بہم یاد آ گئے

اٹھ چلے وہ تو اس میں حیرت کیا

اٹھ چلے وہ تو اس میں حیرت کیا 
ان کے آگے وفا کی قیمت کیا 
اس کے کوچے سے ہو کے آیا ہوں 
اس سے اچھی ہے کوئی جنت کیا
شہر سے وہ نکلنے والے ہیں 
سر پہ ٹوٹے گی پھر قیامت کیا 

کہوں تو کیا میں کہوں پیاری پیاری آنکھوں کو

کہوں تو کیا میں کہوں پیاری پیاری آنکھوں کو
سبو کہوں؟ کہ صراحی تمہاری آنکھوں کو
کچھ ایسا چھایا ہے دل پر مِرے غبارِ الم
گلوں کے سائے بھی لگتے ہیں بھاری آنکھوں کو
جھلک رہے ہیں وہ پلکوں پہ آنسوؤں کی طرح
وہ غم جو تم نے دئیے ہیں ہماری آنکھوں کو

کتنا رنگین محبت ترا افسانہ ہے

جان جانے کو ہے اور رقص میں پروانہ ہے
کتنا رنگین محبت تِرا افسانہ ہے
یہ تو دیکھا کہ مِرے ہاتھ میں پیمانہ ہے
یہ نہ دیکھا کہ غمِ عشق کو سمجھانا ہے
اتنا نزدیک ہوئے ترکِ تعلق کی قسم
جو کہانی ہے مِری آپ کا افسانہ ہے

Friday, 27 January 2017

توبہ توبہ سے ندامت کی گھڑی آئی ہے

توبہ توبہ سے ندامت کی گھڑی آئی ہے
مے کدے پر بڑی گھنگھور گھٹا چھائی ہے
رنگ کچھ اتنا مِری وحشتِ دل لائی ہے
مجمعِ عام ہے اور آپ کا سودائی ہے
اشک پیتا ہوں تو لو دیتے ہیں چھالے دل کے
آہ کرتا ہوں تو پھر عشق کی رسوائی ہے

اب جشن اشک اے شب ہجراں کریں گے ہم

اب جشنِ اشک اے شبِ ہجراں کریں گے ہم
اپنی تباہیوں پہ چراغاں کریں گے ہم
خود تو کبھی نہ آئے گی ہونٹوں پہ اب ہنسی
ہاں دوسروں کے ہنسنے کا ساماں کریں گے ہم
کیا تھی خبر کہ حد سے گزر جائے گا جنوں
ہاتھوں سے اپنے چاک گریباں کریں گے ہم

غالب نے کی یہ عرض خداوند ذوالجلال

غالب دلی میں

غالب نے کی یہ عرض خداوندِ ذوالجلال
جنت سے کچھ دنوں کیلئے کر مجھے بحال
مہ وش مرے کلام کو سازوں پہ گائے ہیں
قسمت نے بعد مرنے کے کیا دن دکھائے ہیں
شاعر جو منحرف تھے وہ مرعوب ہو گئے
ایواں جو میرے نام سے منسوب ہو گئے

ایسی سردی نہ پڑی ایسے نہ دیکھے جاڑے

جاڑے
  
ایسی سردی نہ پڑی ایسے نہ دیکھے جاڑے
دو بجے دن کو اذاں دیتے تھے مرغ سارے
وہ گھٹا ٹوپ نظر آتے تھے دن کو تارے
سرد لہروں سے جمے جاتے تھے مے کے پیالے
ایک شاعر نے کہا چیخ کے ساغر بھائی
عمر میں پہلے پہل چمچے سے چائے کھائی

Tuesday, 19 April 2016

روٹی کپڑا اور مکان

روٹی کپڑا اور مکان

دل جل رہے ہیں دوستو غم کے الاؤ میں
بچے بھی مبتلا ہیں دماغی تناؤ میں
پانی کی طرح بہتی ہے دولت چناؤ میں
یکجہتی کا تو نام نہیں رکھ رکھاؤ میں
اک آدمی کے واسطے پتلون، شرٹ، کوٹ
اک آدمی  کے واسطے ممکن نہیں لنگوٹ

بیٹھے ہیں ایسے زلف میں کلیاں سنوار کے

بیٹھے ہیں ایسے زلف میں کلیاں سنوار کے
آئے ہوں جیسے ان کے لیے دن بہار کے
اے تیز رو زمانے! تجھے کچھ خبر بھی ہے
لمحے صدی بنے ہیں شبِ انتظار کے
باقی رہے نہ گلشن و گل اور نہ آشیاں
لیکن ہیں چار سُو وہی چرچے بہار کے