عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
سرِ حسینؑ سِناں پہ جِدھر سے گُزرا ہے
خدا کا نام اسی رہ گزر سے گزرا ہے
نبیؐ کے فرش سے عرشِ بریں کے پردے تک
علیؑ ہر اک مقامِ خبر سے گزرا ہے
نہیں ہے اب کوئی معراجِ مصطفیٰؐ میں گماں
بشر کا قافلہ شہرِ قمر سے گزرا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
سرِ حسینؑ سِناں پہ جِدھر سے گُزرا ہے
خدا کا نام اسی رہ گزر سے گزرا ہے
نبیؐ کے فرش سے عرشِ بریں کے پردے تک
علیؑ ہر اک مقامِ خبر سے گزرا ہے
نہیں ہے اب کوئی معراجِ مصطفیٰؐ میں گماں
بشر کا قافلہ شہرِ قمر سے گزرا ہے
کرکٹ میچ
بیزار ہو گئے تھے جو شاعر حیات سے
کرکٹ کا میچ کھیل لیا شاعرات سے
واقف نہ تھے جو دوستو! عورت کی ذات سے
چوکے لگا رہے تھے خیالوں میں رات سے
آئی جو صبح شام کے نقشے بگڑ گئے
سروں سے ہم غریبوں کے اسٹمپ اکھڑ گئے
در مدحِ آم
جو آم میں ہے وہ لبِ شیریں میں نہیں رس
ریشوں میں ہے جو شیخ کی داڑھی سے مقدس
آتے ہیں نظر آم تو جاتے ہیں بدن کَس
لنگڑے بھی چلے آتے ہیں کھانے کو بنارس
ہونٹوں میں حسینوں کے جو امرس کا مزا ہے
یہ پھل کسی عاشق کی محبت کا صِلہ ہے