Showing posts with label رمیش کنول. Show all posts
Showing posts with label رمیش کنول. Show all posts

Sunday, 11 July 2021

غم چھپانے میں وقت لگتا ہے

غم چُھپانے میں وقت لگتا ہے

مُسکرانے میں وقت لگتا ہے

رُوٹھ جانے کا کوئی وقت نہیں

پر منانے میں وقت لگتا ہے

ضد کا بستر سمیٹیۓ دلبر

گھر بسانے میں وقت لگتا ہے

Tuesday, 27 April 2021

اپنوں کے درمیان سلامت نہیں رہے

 اپنوں کے درمیان سلامت نہیں رہے

دیوار و در مکان سلامت نہیں رہے

نفرت کی گرد جمع نگاہوں میں رہ گئی

الفت کے قدر دان سلامت نہیں رہے

روشن ہیں آرزو کے بہت زخم آج بھی

زخموں کے کچھ نشان سلامت نہیں رہے

Saturday, 24 April 2021

مسکراؤں گا گنگناؤں گا

 مسکراؤں گا، گنگناؤں گا

میں تِرا حوصلہ بڑھاؤں گا

رُوٹھنے کی ادا نرالی ہے

جب تُو روٹھے گا، میں مناؤں گا

قربتوں کے چراغ گُل کر کے

فاصلوں کے دِیے جلاؤں گا

Friday, 23 April 2021

لو شروع نفرت ہوئی

 لو شروع نفرت ہوئی 

خیریت رخصت ہوئی 

بند دروازے ہوئے

برہنہ وحشت ہوئی

ایک لمحے کی خطا 

صدیوں کی شامت ہوئی 

زندگی ان دنوں اداس کہاں

 زندگی ان دنوں اُداس کہاں

تجھ سے ملنے کی دل میں آس کہاں

موسموں میں گُلوں کی باس کہاں

مُفلسی میری خوش لباس کہاں

لان سے پھُول، پتیاں اوجھل

تیری یادوں کی نرم گھاس کہاں

تجھ سے میں مجھ سے آشنا تم ہو

تجھ سے میں مجھ سے آشنا تم ہو

میں ہوں خوشبو، مگر ہوا تم ہو

میں لکھاوٹ تمہارے ہاتھوں کی

میری تقدیر کا لِکھا تم ہو

تم اگر سچ ہو، میں بھی جھوٹ نہیں

عکس میں، میرا آئینہ تم ہو