غم چُھپانے میں وقت لگتا ہے
مُسکرانے میں وقت لگتا ہے
رُوٹھ جانے کا کوئی وقت نہیں
پر منانے میں وقت لگتا ہے
ضد کا بستر سمیٹیۓ دلبر
گھر بسانے میں وقت لگتا ہے
غم چُھپانے میں وقت لگتا ہے
مُسکرانے میں وقت لگتا ہے
رُوٹھ جانے کا کوئی وقت نہیں
پر منانے میں وقت لگتا ہے
ضد کا بستر سمیٹیۓ دلبر
گھر بسانے میں وقت لگتا ہے
اپنوں کے درمیان سلامت نہیں رہے
دیوار و در مکان سلامت نہیں رہے
نفرت کی گرد جمع نگاہوں میں رہ گئی
الفت کے قدر دان سلامت نہیں رہے
روشن ہیں آرزو کے بہت زخم آج بھی
زخموں کے کچھ نشان سلامت نہیں رہے
مسکراؤں گا، گنگناؤں گا
میں تِرا حوصلہ بڑھاؤں گا
رُوٹھنے کی ادا نرالی ہے
جب تُو روٹھے گا، میں مناؤں گا
قربتوں کے چراغ گُل کر کے
فاصلوں کے دِیے جلاؤں گا
لو شروع نفرت ہوئی
خیریت رخصت ہوئی
بند دروازے ہوئے
برہنہ وحشت ہوئی
ایک لمحے کی خطا
صدیوں کی شامت ہوئی
زندگی ان دنوں اُداس کہاں
تجھ سے ملنے کی دل میں آس کہاں
موسموں میں گُلوں کی باس کہاں
مُفلسی میری خوش لباس کہاں
لان سے پھُول، پتیاں اوجھل
تیری یادوں کی نرم گھاس کہاں
تجھ سے میں مجھ سے آشنا تم ہو
میں ہوں خوشبو، مگر ہوا تم ہو
میں لکھاوٹ تمہارے ہاتھوں کی
میری تقدیر کا لِکھا تم ہو
تم اگر سچ ہو، میں بھی جھوٹ نہیں
عکس میں، میرا آئینہ تم ہو