مسکراؤں گا، گنگناؤں گا
میں تِرا حوصلہ بڑھاؤں گا
رُوٹھنے کی ادا نرالی ہے
جب تُو روٹھے گا، میں مناؤں گا
قربتوں کے چراغ گُل کر کے
فاصلوں کے دِیے جلاؤں گا
جگنوؤں سا لباس پہنوں گا
تیری آنکھوں میں جھلملاؤں گا
مہرباں ہو گا جب وہ جانِ کنول
اس کی گستاخیاں گِناؤں گا
رمیش کنول
No comments:
Post a Comment