Saturday, 24 April 2021

بہت کم بولنا اب کر دیا ہے

 بہت کم بولنا اب کر دیا ہے

کئی موقعوں پہ غصہ بھی پیا ہے

تم ہم سے پوچھتے ہو کیا کہ ہم نے

بہت سا کام نظروں سے لیا ہے

بہت گرمی پڑی اب کے برس بھی

مئی اور جون مشکل میں جِیا ہے

رفُو آنچل پہ تیرے ہے تو سن لے

گریباں چاک ہم نے بھی سِیا ہے

تمہاری گفتگو بتلا رہی ہے

کسی سے عشق تم نے بھی کِیا ہے

بہت شِیر و شکر ہیں ہم ادب میں

تو شمس ہم میں کوئی کیا مافیا ہے


شمس تبریزی

No comments:

Post a Comment