دستِ قاتل کو اگر خاص ادا دی جائے
پھر پسِ مرگ نہ منصف کو صدا دی جائے
درد مسکے گا تو گلزار کرے گا دل کو
ٹوٹتے رشتوں کو اے دوست دعا دی جائے
پھر جلا ڈالیں گے یادوں کے سنہرے بن کو
اب نہ شعلوں کو سرِ شام ہوا دی جائے
دستِ قاتل کو اگر خاص ادا دی جائے
پھر پسِ مرگ نہ منصف کو صدا دی جائے
درد مسکے گا تو گلزار کرے گا دل کو
ٹوٹتے رشتوں کو اے دوست دعا دی جائے
پھر جلا ڈالیں گے یادوں کے سنہرے بن کو
اب نہ شعلوں کو سرِ شام ہوا دی جائے
رات ہے کالی گھٹا ہے اور میں
پُر خطر یہ راستہ ہے اور میں
پار اترنے کی کوئی صورت نہیں
کشتیٔ بے، نا خدا ہے اور میں
کس ڈگر پر آ دبوچے کیا پتہ
پیچھے پیچھے حادثہ ہے اور میں
وقت کی رفتار کو پرکھا کرو
بند ہر جھگڑے کا دروازہ کرو
منہ سے نکلی بات کی ہو گی پکڑ
آگے پیچھے سوچ کر بولا کرو
صرف غیروں کی زبانیں سیکھ کر
مشورہ ہے خود کو مت گونگا کرو
منصف ہو بھلا حکم سنا کیوں نہیں دیتے
مجرم ہوں اگر میں تو سزا کیوں نہیں دیتے
دیوار کھڑی ہو گئی نفرت کی بہر سُو
اربابِ وفا اس کو گرا کیوں نہیں دیتے
وہ خوگرِ دشنام جو افلاک نشیں ہیں
اوقات کبھی ان کی بتا کیوں نہیں دیتے
کچے مکانوں کے در و دیوار ٹوٹتے
ہوتیں جو تیز آندھیاں اشجار ٹوٹتے
کرتیں فلک سے بات نہ اشیاء کی قیمتیں
یک بارگی اگر نہ خریدار ٹوٹتے
مقصود انتقام نہ تھا، ورنہ اے عدو
تیرے غرور بر سرِ بازار ٹوٹتے
ڈھٹائی سے جو باطل بولتا ہے
وہ حق کو پا کے غافل بولتا ہے
پڑا رہنے دو ذلت کے گڑھے میں
بقدرِ ظرف کاہل بولتا ہے
مِرے احباب میں تھا وہ بھی کل تک
مخالف کے جو شامل بولتا ہے