Showing posts with label رفیق انجم. Show all posts
Showing posts with label رفیق انجم. Show all posts

Friday, 18 November 2022

دست قاتل کو اگر خاص ادا دی جائے

 دستِ قاتل کو اگر خاص ادا دی جائے 

پھر پسِ مرگ نہ منصف کو صدا دی جائے

درد مسکے گا تو گلزار کرے گا دل کو

ٹوٹتے رشتوں کو اے دوست دعا دی جائے

پھر جلا ڈالیں گے یادوں کے سنہرے بن کو

اب نہ شعلوں کو سرِ شام ہوا دی جائے

Friday, 3 December 2021

رات ہے کالی گھٹا ہے اور میں

رات ہے کالی گھٹا ہے اور میں

پُر خطر یہ راستہ ہے اور میں

پار اترنے کی کوئی صورت نہیں

کشتیٔ بے، نا خدا ہے اور میں

کس ڈگر پر آ دبوچے کیا پتہ

پیچھے پیچھے حادثہ ہے اور میں

Wednesday, 1 December 2021

وقت کی رفتار کو پرکھا کرو

 وقت کی رفتار کو پرکھا کرو

بند ہر جھگڑے کا دروازہ کرو

منہ سے نکلی بات کی ہو گی پکڑ

آگے پیچھے سوچ کر بولا کرو

صرف غیروں کی زبانیں سیکھ کر

مشورہ ہے خود کو مت گونگا کرو

Saturday, 27 November 2021

منصف ہو بھلا حکم سنا کیوں نہیں دیتے

 منصف ہو بھلا حکم سنا کیوں نہیں دیتے

مجرم ہوں اگر میں تو سزا کیوں نہیں دیتے

دیوار کھڑی ہو گئی نفرت کی بہر سُو

اربابِ وفا اس کو گرا کیوں نہیں دیتے

وہ خوگرِ دشنام جو افلاک نشیں ہیں

اوقات کبھی ان کی بتا کیوں نہیں دیتے

Saturday, 6 November 2021

کچے مکانوں کے در و دیوار ٹوٹتے

 کچے مکانوں کے در و دیوار ٹوٹتے

ہوتیں جو تیز آندھیاں اشجار ٹوٹتے

کرتیں فلک سے بات نہ اشیاء کی قیمتیں

یک بارگی اگر نہ خریدار ٹوٹتے

مقصود انتقام نہ تھا، ورنہ اے عدو

تیرے غرور بر سرِ بازار ٹوٹتے

ڈھٹائی سے جو باطل بولتا ہے

 ڈھٹائی سے جو باطل بولتا ہے

وہ حق کو پا کے غافل بولتا ہے

پڑا رہنے دو ذلت کے گڑھے میں

بقدرِ ظرف کاہل بولتا ہے

مِرے احباب میں تھا وہ بھی کل تک

مخالف کے جو شامل بولتا ہے