Showing posts with label شہاب اشرف. Show all posts
Showing posts with label شہاب اشرف. Show all posts

Monday, 7 March 2022

سکوت شب میں تری یاد دل میں یوں آئی

 سکوتِ شب میں تِری یاد دل میں یوں آئی

بجا رہا ہو کوئی دور جیسے شہنائی

خود اپنے غم سے لپٹ کر شہاب سو جاؤ

تھکی تھکی سی شبِ ہجر ختم پر آئی

کسی کو رنجشِ بے جا بھی اب نہیں ہم سے

کھنک کے ٹوٹ گیا ساغر شناسائی

Wednesday, 16 February 2022

میں کیا کروں کہ نہیں دل پہ اختیار مجھے

 میں کیا کروں کہ نہیں دل پہ اختیار مجھے

وگرنہ، تیری محبت ہے ناگوار مجھے

نہ دن کو چین نہ راتوں کو ہے قرار مجھے

بس اب تو رہنے دے تنہا خیالِ یار مجھے

لپٹ کے سو گئیں ساحل سے جب تھکی موجیں

وہ یاد آئے سرِ شام بار بار مجھے

Sunday, 6 February 2022

رو کر نصیب عشق کو برسات بھی گئی

 رو کر نصیب عشق کو برسات بھی گئی

بھڑکا کے آگ بھیگی ہوئی رات بھی گئی

لے خود نگر چلے تِری محفل سے اٹھ کے ہم

تجھ سے تو مل کے عشق کی اوقات بھی گئی

کچھ آپ مست ناز تھے کچھ ہم غیور تھے

تھوڑی بہت جو تھی وہ ملاقات بھی گئی

Thursday, 3 February 2022

مجھ کو شام ہجر کی یہ جلوہ آرائی بہت

 مجھ کو شام ہجر کی یہ جلوہ آرائی بہت

مہکی مہکی یاد تیری اور تنہائی بہت

عمر بھر ڈرتا رہا کم ظرفیٔ احساس سے

ان کے پہلو میں بھی میری روح گھبرائی بہت

ڈوب کر ان جھیل سی آنکھوں میں جب غزلیں کہیں

میرے ان شعروں میں تب آئی ہے گہرائی بہت

Wednesday, 2 February 2022

کیا کہیں یارو کیا کیا ہم پر عشق خرابی لایا ہے

 کیا کہیں یارو! کیا کیا ہم پر عشق خرابی لایا ہے

آنکھ سے لے کر دل تک جیسے اک دھندلکا چھایا ہے

جیسے دھنک آکاش پہ نکلے بادل کے چھٹ جانے پر

یوں ہی تیرے غم میں رو کر وقت سہانا آیا ہے

میری بات نہ سننے والے پوچھ اس سے تو حال مرا

آنسو ایک فسانہ بن کے پلکوں پر تھرّایا ہے

Saturday, 6 March 2021

وہ بدن پھول کی باہوں میں پلا ہو جیسے

 وہ بدن پھول کی باہوں میں پلا ہو جیسے

اس قدر نرم کہ خوابوں میں ڈھلا ہو جیسے

زندگی ٹوٹتے شیشوں کی صدا ہو جیسے

زندگی کانپتے ہونٹوں کی دعا ہو جیسے

اس طرح دل میں تِری یاد کی خوشبو آئی

دشتِ ویراں میں کوئی پھول کھلا ہو جیسے