سکوتِ شب میں تِری یاد دل میں یوں آئی
بجا رہا ہو کوئی دور جیسے شہنائی
خود اپنے غم سے لپٹ کر شہاب سو جاؤ
تھکی تھکی سی شبِ ہجر ختم پر آئی
کسی کو رنجشِ بے جا بھی اب نہیں ہم سے
کھنک کے ٹوٹ گیا ساغر شناسائی
سکوتِ شب میں تِری یاد دل میں یوں آئی
بجا رہا ہو کوئی دور جیسے شہنائی
خود اپنے غم سے لپٹ کر شہاب سو جاؤ
تھکی تھکی سی شبِ ہجر ختم پر آئی
کسی کو رنجشِ بے جا بھی اب نہیں ہم سے
کھنک کے ٹوٹ گیا ساغر شناسائی
میں کیا کروں کہ نہیں دل پہ اختیار مجھے
وگرنہ، تیری محبت ہے ناگوار مجھے
نہ دن کو چین نہ راتوں کو ہے قرار مجھے
بس اب تو رہنے دے تنہا خیالِ یار مجھے
لپٹ کے سو گئیں ساحل سے جب تھکی موجیں
وہ یاد آئے سرِ شام بار بار مجھے
رو کر نصیب عشق کو برسات بھی گئی
بھڑکا کے آگ بھیگی ہوئی رات بھی گئی
لے خود نگر چلے تِری محفل سے اٹھ کے ہم
تجھ سے تو مل کے عشق کی اوقات بھی گئی
کچھ آپ مست ناز تھے کچھ ہم غیور تھے
تھوڑی بہت جو تھی وہ ملاقات بھی گئی
مجھ کو شام ہجر کی یہ جلوہ آرائی بہت
مہکی مہکی یاد تیری اور تنہائی بہت
عمر بھر ڈرتا رہا کم ظرفیٔ احساس سے
ان کے پہلو میں بھی میری روح گھبرائی بہت
ڈوب کر ان جھیل سی آنکھوں میں جب غزلیں کہیں
میرے ان شعروں میں تب آئی ہے گہرائی بہت
کیا کہیں یارو! کیا کیا ہم پر عشق خرابی لایا ہے
آنکھ سے لے کر دل تک جیسے اک دھندلکا چھایا ہے
جیسے دھنک آکاش پہ نکلے بادل کے چھٹ جانے پر
یوں ہی تیرے غم میں رو کر وقت سہانا آیا ہے
میری بات نہ سننے والے پوچھ اس سے تو حال مرا
آنسو ایک فسانہ بن کے پلکوں پر تھرّایا ہے
وہ بدن پھول کی باہوں میں پلا ہو جیسے
اس قدر نرم کہ خوابوں میں ڈھلا ہو جیسے
زندگی ٹوٹتے شیشوں کی صدا ہو جیسے
زندگی کانپتے ہونٹوں کی دعا ہو جیسے
اس طرح دل میں تِری یاد کی خوشبو آئی
دشتِ ویراں میں کوئی پھول کھلا ہو جیسے