گلستاں لٹ گیا ہر برگ و ثمر قتل ہوا
اب کے امیدوں کا ایک ایک شجر قتل ہوا
جلتے سائے مِرے ہمراہ چلے شہر بہ شہر
منزلیں خاک ہوئیں،۔ اور سفر قتل ہوا
ڈھونڈتا پھرتا ہوں ہر موڑ پہ صورت اپنی
کیا تماشہ ہے کہ ہر موڑ پہ گھر قتل ہوا
گلستاں لٹ گیا ہر برگ و ثمر قتل ہوا
اب کے امیدوں کا ایک ایک شجر قتل ہوا
جلتے سائے مِرے ہمراہ چلے شہر بہ شہر
منزلیں خاک ہوئیں،۔ اور سفر قتل ہوا
ڈھونڈتا پھرتا ہوں ہر موڑ پہ صورت اپنی
کیا تماشہ ہے کہ ہر موڑ پہ گھر قتل ہوا
تھرتھراتا ہے رکی موجوں کا شیشہ آنکھ پر
پڑ رہا ہے ڈوبتے منظر کا سایہ آنکھ پر
ڈھونڈتا رہ جائے گا اڑتا پتنگا روشنی
رفتہ رفتہ آ گرے گا ایک پتہ آنکھ پر
بادلوں کا رقص تھا نزدیک کے اک گاؤں میں
رک گیا تھا آن کر سیلابِ گریہ آنکھ پر
خون میں ڈوبے لبوں پر اک دعا رہ جائے گی
اک ابھرتی، ڈوبتی قاتل صدا رہ جائے گی
کیا پتہ کس روز چھِن جائے گی ہونٹوں کی ہنسی
حسرتوں کے دوش پر خالی ہوا رہ جائے گی
زرد پتوں کا کفن بھی ایک دن چھِن جائے گا
کیا بتاؤں؛ آبرو موسم کی کیا رہ جائے گی
لہو میں ڈوبی ہوئی پھر کوئی صدا آئی
الٰہی! خیر کہ مقتل سے پھر گھٹا آئی
بچھڑ گئی تھی کوئی روح اپنے سائے سے
کسی کو ڈھونڈنے والی کوئی صدا آئی
لرز اٹھا در و دیوار کا بھی سناٹا
کسی طرف سے اچانک جو یہ ہوا آئی