Showing posts with label مصطفیٰ مومن. Show all posts
Showing posts with label مصطفیٰ مومن. Show all posts

Thursday, 1 January 2026

گلستاں لٹ گیا ہر برگ و ثمر قتل ہوا

 گلستاں لٹ گیا ہر برگ و ثمر قتل ہوا

اب کے امیدوں کا ایک ایک شجر قتل ہوا

جلتے سائے مِرے ہمراہ چلے شہر بہ شہر

منزلیں خاک ہوئیں،۔ اور سفر قتل ہوا

ڈھونڈتا پھرتا ہوں ہر موڑ پہ صورت اپنی

کیا تماشہ ہے کہ ہر موڑ پہ گھر قتل ہوا

Wednesday, 30 July 2025

تھرتھراتا ہے رکی موجوں کا شیشہ آنکھ پر

 تھرتھراتا ہے رکی موجوں کا شیشہ آنکھ پر

پڑ رہا ہے ڈوبتے منظر کا سایہ آنکھ پر

ڈھونڈتا رہ جائے گا اڑتا پتنگا روشنی

رفتہ رفتہ آ گرے گا ایک پتہ آنکھ پر

بادلوں کا رقص تھا نزدیک کے اک گاؤں میں

رک گیا تھا آن کر سیلابِ گریہ آنکھ پر

Friday, 11 July 2025

خون میں ڈوبے لبوں پر اک دعا رہ جائے گی

 خون میں ڈوبے لبوں پر اک دعا رہ جائے گی

اک ابھرتی، ڈوبتی قاتل صدا رہ جائے گی

کیا پتہ کس روز چھِن جائے گی ہونٹوں کی ہنسی

حسرتوں کے دوش پر خالی ہوا رہ جائے گی

زرد پتوں کا کفن بھی ایک دن چھِن جائے گا

کیا بتاؤں؛ آبرو موسم کی کیا رہ جائے گی

Tuesday, 5 January 2021

توڑنی مل کر ہمیں یہ ظلم کی زنجیر ہے

لہو میں ڈوبی ہوئی پھر کوئی صدا آئی

الٰہی! خیر کہ مقتل سے پھر گھٹا آئی

بچھڑ گئی تھی کوئی روح اپنے سائے سے

کسی کو ڈھونڈنے والی کوئی صدا آئی

لرز اٹھا در و دیوار کا بھی سناٹا

کسی طرف سے اچانک جو یہ ہوا آئی