Monday, 1 June 2026

خواب قربان کیا ہے میں نے

 خواب قُربان کِیا ہے میں نے 

خُود کو وِیران کیا ہے میں نے 

کچھ بھی باقی نہ بچا اپنے لیے

جب بھی مِیزان کیا ہے میں نے 

عشق کی راہ میں  چلتے چلتے

اپنا نُقصان کیا ہے میں نے

ایک دِیوار گِرانے کے لیے 

جسم بے جان کیا ہے میں نے

زندہ رکھا ہے تغزل اپنا

گُل کو گُلدان کیا ہے میں نے

حضرتِ قیس کے قِصے لِکھ کر 

شہر سُنسان کیا ہے میں نے

اپنے ہمزاد  سے لڑتے لڑتے

خود کو ہلکان کیا ہے میں نے

بے ہُنر مجھ کو جو کہتے تھے رشید 

ان کو حیران کیا ہے میں نے


رشید سندیلوی

No comments:

Post a Comment