ملنا ہے جس کو آ کے ملے جُوئبار پر
طوفانِ رُستہ خیز ہے ریگِ کنار پر
سر میرا کٹ بھی جائے تو جھُکنے نہ پائے گا
کوئی بھی حرف آنے نہ دوں گا وقار پر
زیرِ نگیں ہے رونقِ دنیائے شش جہت
اہلِ فلک کو رشک ہے مشتِ غبار پر
ملنا ہے جس کو آ کے ملے جُوئبار پر
طوفانِ رُستہ خیز ہے ریگِ کنار پر
سر میرا کٹ بھی جائے تو جھُکنے نہ پائے گا
کوئی بھی حرف آنے نہ دوں گا وقار پر
زیرِ نگیں ہے رونقِ دنیائے شش جہت
اہلِ فلک کو رشک ہے مشتِ غبار پر
جس نے دیکھی ہے شبِ تیرہ، سحر بھی دیکھے
تا دمِ صبح وہ اشکوں کا اثر بھی دیکھے
تم نے تو خار ہی دیکھے ہیں سرِ شاخِ شجر
ہم نے سوکھی ہوئی شاخوں پہ ثمر بھی دیکھے
بیچتے پھرتے ہیں بازار میں یہ جنسِ ہنر
خود فروشوں میں کئی اہلِ ہنر بھی دیکھے
بُت گر کو جیسے پیار ہے اپنے بتوں کے ساتھ
رغبت ہمیں بھی رہتی ہے ان مہ رخوں کے ساتھ
جس نے بھی دیکھا ہاتھ وہ ملتے ہی رہ گیا
گُلچیں نے ایسا ہاتھ کیا ہے گُلوں کے ساتھ
کب تک غریبِ شہر کی میت پہ چُپ رہیں
اب مل کے ہم بھی روئیں گے نوحہ گروں کے ساتھ
شبِ تاریکِ زنداں میں کہیں سے روشنی آئے
کبھی تو گنبدِ دل سے صدائے زندگی آئے
ابھی ہے زندگی اوہام کی تاریکیوں میں گم
چراغِ عقل روشن ہو شعاعِ آگہی آئے
رِہیں گر صوفی و ملا کی فتنہ بازیاں باقی
تو کیسے بندگی میں سوز و سازِ بندگی آئے
صورتِ شعر جو پیغامِ الست آیا ہے
بادۂ عشق میں ڈوبا ہوا مست آیا ہے
میری آشفتہ مزاجی کا تقاضا تھا یہی
ہر کوئی ملنے مجھے سنگ بہ دست آیا ہے
لوحِ محفوظ پہ لکھا گیا جب نام مِرا
خامۂ عشق پہ بس حرفِ شکست آیا ہے
آؤ دیکھیں تو ذرا چل کے سرِ دار ہے کون
کاسۂ سر کو لیے حق کا طلبگار ہے کون
بر سرِ منبر و محراب یہ کون آیا ہے
دلقِ تلبیس میں یہ صاحبِ دستار ہے کون
یہ تو مدہوشی میں کرتا ہے خرد کی باتیں
سرِ مے خانہ یہ بیٹھا ہوا میخوار ہے کون
ستانے والے تو ان کو ستائے جاتے ہیں
یہ لوگ زخم پہ کیوں زخم کھائے جاتے ہیں
عجیب رسم یہ دیکھی یہاں کے رِندوں میں
کوئی پیۓ نہ پیۓ،۔ یہ پلائے جاتے ہیں
تِرے محبوں میں ہر اک کو سر بکف دیکھا
خوشی سے آ کے سروں کو کٹائے جاتے ہیں