Showing posts with label مقصود جعفری. Show all posts
Showing posts with label مقصود جعفری. Show all posts

Saturday, 2 April 2022

ملنا ہے جس کو آ کے ملے جوئبار پر

 ملنا ہے جس کو آ کے ملے جُوئبار پر

طوفانِ رُستہ خیز ہے ریگِ کنار پر

سر میرا کٹ بھی جائے تو جھُکنے نہ پائے گا

کوئی بھی حرف آنے نہ دوں گا وقار پر

زیرِ نگیں ہے رونقِ دنیائے شش جہت

اہلِ فلک کو رشک ہے مشتِ غبار پر

Monday, 7 March 2022

جس نے دیکھی ہے شبِ تیرہ سحر بھی دیکھے

 جس نے دیکھی ہے شبِ تیرہ، سحر بھی دیکھے

تا دمِ صبح وہ اشکوں کا اثر بھی دیکھے

تم نے تو خار ہی دیکھے ہیں سرِ شاخِ شجر

ہم نے سوکھی ہوئی شاخوں پہ ثمر بھی دیکھے

بیچتے پھرتے ہیں بازار میں یہ جنسِ ہنر

خود فروشوں میں کئی اہلِ ہنر بھی دیکھے

Saturday, 5 March 2022

بت گر کو جیسے پیار ہے اپنے بتوں کے ساتھ

 بُت گر کو جیسے پیار ہے اپنے بتوں کے ساتھ

رغبت ہمیں بھی رہتی ہے ان مہ رخوں کے ساتھ

جس نے بھی دیکھا ہاتھ وہ ملتے ہی رہ گیا

گُلچیں نے ایسا ہاتھ کیا ہے گُلوں کے ساتھ

کب تک غریبِ شہر کی میت پہ چُپ رہیں

اب مل کے ہم بھی روئیں گے نوحہ گروں کے ساتھ

Thursday, 24 February 2022

شب تاریک زنداں میں کہیں سے روشنی آئے

 شبِ تاریکِ زنداں میں کہیں سے روشنی آئے

کبھی تو گنبدِ دل سے صدائے زندگی آئے

ابھی ہے زندگی اوہام کی تاریکیوں میں گم

چراغِ عقل روشن ہو شعاعِ آگہی آئے

رِہیں گر صوفی و ملا کی فتنہ بازیاں باقی

تو کیسے بندگی میں سوز و سازِ بندگی آئے

Wednesday, 16 February 2022

صورت شعر جو پیغام الست آیا ہے

 صورتِ شعر جو پیغامِ الست آیا ہے

بادۂ عشق میں ڈوبا ہوا مست آیا ہے

میری آشفتہ مزاجی کا تقاضا تھا یہی

ہر کوئی ملنے مجھے سنگ بہ دست آیا ہے

لوحِ محفوظ پہ لکھا گیا جب نام مِرا

خامۂ عشق پہ بس حرفِ شکست آیا ہے

Tuesday, 15 February 2022

آؤ دیکھیں تو ذرا چل کے سر دار ہے کون

 آؤ دیکھیں تو ذرا چل کے سرِ دار ہے کون

کاسۂ سر کو لیے حق کا طلبگار ہے کون

بر سرِ منبر و محراب یہ کون آیا ہے

دلقِ تلبیس میں یہ صاحبِ دستار ہے کون

یہ تو مدہوشی میں کرتا ہے خرد کی باتیں

سرِ مے خانہ یہ بیٹھا ہوا میخوار ہے کون

Monday, 14 February 2022

ستانے والے تو ان کو ستائے جاتے ہیں

 ستانے والے تو ان کو ستائے جاتے ہیں

یہ لوگ زخم پہ کیوں زخم کھائے جاتے ہیں

عجیب رسم یہ دیکھی یہاں کے رِندوں میں

کوئی پیۓ نہ پیۓ،۔ یہ پلائے جاتے ہیں

تِرے محبوں میں ہر اک کو سر بکف دیکھا

خوشی سے آ کے سروں کو کٹائے جاتے ہیں