Sunday, 25 October 2026

مسند وقت پہ بیٹھے ہیں گنہ گار ابھی

 لے کے بڑھتے ہی رہو مشعلِ رفتار ابھی

مسندِ وقت پہ بیٹھے ہیں گُنہ گار ابھی

ایک کا ہاتھ اگر کٹ بھی گیا، غم نہ کرو

اپنے لشکر میں بہت سے ہیں علمدار ابھی

تم پیمبر تو نہیں ہو کہ ہے بیعت لازم

اپنے دو ہاتھ کے ہم بھی ہیں طرفدار ابھی

سب ہی جھانکیں گے تو یہ ٹُوٹ کے گِر جائے گی

اتنی مضبوط نہیں جِسم کی دیوار ابھی

میں ہی یہ دستِ شفا اس کے بدن پر رکھ دوں

یہ صدی خُود بھی ہے زخموں سے دُھواں دھار ابھی

تھال پُوجا کے ریاض اور بچا کر رکھیے

ایک سے ایک ہیں اس شہر میں اوتار ابھی


صغیر ریاض

No comments:

Post a Comment