Showing posts with label افتخار قیصر. Show all posts
Showing posts with label افتخار قیصر. Show all posts

Thursday, 24 September 2020

دو دو گھونٹ ہی پی کر دیکھو

 دو دو گھونٹ ہی پی کر دیکھو

تھوڑی دیر تو جی کر دیکھو

سب کچھ دل میں ہی نہ رکھو

بات کوئی پوری کر دیکھو

مے خانے سے ڈرنے والو

زہر پیالہ پی کر دیکھو

یہ غم نہ دے کہ مجھ سے بھلایا نہ جائے گا

 یہ غم نہ دے کہ مجھ سے بھلایا نہ جائے گا

پِھر دل کسی بھی دل سے لگایا نہ جائے گا

روشن ہوئے چراغ تو دیوار گر پڑی

اب گھر کا کوئی راز چھپایا نہ جائے گا

دیکھا اسے تو دل نے مجھے روک کر کہا

ان پتھروں سے ہاتھ ملایا نہ جائے گا

Tuesday, 22 September 2020

نہ سوال بن کے ملا کرو نہ جواب بن کے ملا کرو

 نہ سوال بن کے ملا کرو، نہ جواب بن کے ملا کرو

میری زندگی میرے خواب ہیں مجھے خواب بن کے ملا کر

ارے شام کو میرے دوستو! نہ عذاب بن کے ملا کرو

مجھے مے کدے میں ملو اگر تو شراب بن کے ملا کرو

Monday, 21 September 2020

رات بھر آنکھ تو نہیں جاگی

 رات بھر آنکھ تو نہیں جاگی

کوئی خواہش مگر کہیں جاگی

سو گیا آسماں ستاروں پر

آندھیوں کے تلے زمیں جاگی

میں جو سوئی تیرے خیالوں میں

چاندنی سی کہیں کہیں جاگی

Sunday, 9 August 2020

اک جوگی کا پیار نہ آیا اس لڑکی کو راس

دور دور تک سناٹا ہے، کوئی نہیں ہے پاس 
آ جا دریا ہونٹ سے لگ جا پی لے میری پیاس 
عشق کے پہلے پہلے وار سے وہ بھی ٹوٹ گئی 
اک جوگی کا پیار نہ آیا، اس لڑکی کو راس 
روزانہ پوشاکیں بدلوں، اور خوشبوئیں بھی 
میرے جسم سے اترے نا میری مٹی کی باس 

ایسی لڑکی آج تک دیکھی نہیں ہے مال پر

جو ملا کرتی تھی مجھ کو لکڑیوں کی ٹال پر 
ایسی لڑکی آج تک دیکھی نہیں ہے مال پر 
آنکھ میں سائے کی خواہش پیٹ میں روٹی کی بھوک 
پھر بھی کیسی تازگی تھی پھول جیسے گال پر 
اس کو دیکھا تو اسے بس دیکھتا ہی رہ گیا 
جیسے اک زخمی سی تتلی ایک ٹوٹی ڈال پر 

کھلا اب شام کو بھی گھر کا دروازہ نہیں ہوتا

تِری آواز میں بھی کوئی آوازہ نہیں ہوتا
تری باتوں سے اب تو کوئی اندازہ نہیں ہوتا
کبھی بیٹھک تری دوپہر میں آباد رہتی تھی
کھلا اب شام کو بھی گھر کا دروازہ نہیں ہوتا
کبھی وہ اک اشارے سے سمجھ جاتا تھا ساری بات
جتن کرنے سے بھی اب اس کو اندازہ نہیں ہوتا

مسائل اپنی آنکھوں کے بڑے ہیں

مسائل اپنی آنکھوں کے بڑے ہیں
بہت سے خواب ان دیکھے پڑے ہیں
یہاں لوگوں کی عادت اور سی ہے
میرے اندر تو پاگل پن بڑے ہیں
یہاں آ کر تو پیاسا مر گیا ہوں
سنا تھا شہر میں دریا چڑھے ہیں

Sunday, 8 March 2015

مری آنکھوں کو آنکھوں کا کنارہ کون دے گا

مِری آنکھوں کو آنکھوں کا کنارہ کون دے گا
سمندر کو سمندر میں سہارا کون دے گا
مِرے چہرے کو چہرہ کب عنایت کر رہے ہو
تمہیں میرے سوا چہرہ تمہارا کون دے گا
مِرے دریا نے اپنے ہی کنارے کاٹ ڈالے
بپھرتے پانیوں کا اب سہارا کون دے گا

اپنے خوں کو خرچ کیا ہے اور کمایا شہر

اپنے خوں کو خرچ کیا ہے اور کمایا شہر
سارے منظر ٹوٹ گئے اور کام نہ آیا شہر
بے گھر ہونا، بے گھر رہنا سب اچھا ٹھہرا
گھر کے اندر گھر نہیں پایا، شہر میں پایا شہر
سات سمندر پار بھی آنکھیں میرے ساتھ نہ آئیں
چاروں جانب خواب ہیں میرے اور پرایا شہر

ہم سے اپنے گاؤں کی مٹی کے گھر چھینے گئے

ہم سے اپنے گاؤں کی مٹی کے گھر چھینے گئے
جس طرح شہری پرندوں سے شجر چھینے گئے
تتلیوں نے کاغذی پھولوں پہ ڈیرا کر لیا
راستے میں جگنوؤں کے بال و پر چھینے گئے
اس قدر بڑھنے لگے ہیں گھر سے گھر کے فاصلے
دوستوں سے شام کے پیدل سفر چھینے گئے

مجھ کو ایسے نہ خداؤں سے ڈرایا جائے

مجھ کو ایسے نہ خداؤں سے ڈرایا جائے
میرا کیا جرم ہے، اتنا تو بتایا جائے
میری پہچان کی گٹھڑی مجھے واپس کر دو
میرے چہرے پہ مِرا چہرہ سجایا جائے
میری آنکھوں پہ مِری آنکھیں لگائی جائیں
اب کوئی قیمتی پتھر نہ لگایا جائے