میرے سکوں کو میرے ہی غم نے مٹا دیا
یعنی دِیے نے گھر کے ہی گھر کو جلا دیا
مجھ میں سما کے مجھ سے ہی پردہ عجیب بات
مجھ کو کسی نے لگتا ہے مجھ میں سما دیا
پوچھو نہ عشق پر جو نوازش ہے حسن کی
دریا بنا دیا،۔ کبھی صحرا بنا دیا
میرے سکوں کو میرے ہی غم نے مٹا دیا
یعنی دِیے نے گھر کے ہی گھر کو جلا دیا
مجھ میں سما کے مجھ سے ہی پردہ عجیب بات
مجھ کو کسی نے لگتا ہے مجھ میں سما دیا
پوچھو نہ عشق پر جو نوازش ہے حسن کی
دریا بنا دیا،۔ کبھی صحرا بنا دیا
وہ بھی اداس اداس ہیں ہم بھی اداس اداس
یعنی نہ ان کے پاس خوشی ہے نہ میرے پاس
بجھتی نہیں بجھائے کسی طرح دل کی پیاس
دل ہے کہ چھوڑتا نہیں کم بخت پھر بھی آس
مانا بدل کے رکھ دی بشر نے یہ کائنات
ہائے، مگر حیات کے تن پر وہی لباس
تیرا ہی ذکر تیرا ہی چرچا ہوا کرے
ہوتا ہے حشر برپا تو برپا ہوا کرے
ہاں ناز اور نیاز اسے بھی پسند ہیں
کہہ دیجیے جبیں سے ادب سے جھکا کرے
موسیٰ نہیں جو تاب تجلی کی لا سکوں
پردہ اٹھے تو یوں نہ کرم کا اٹھا کرے
کسی نے کر لیا عہدِ وفا معلوم ہوتا ہے
ہوا ہے درد اپنی خود دوا معلوم ہوتا ہے
وہی یادیں ہیں لیکن کیفیت ہے دوسری دل کی
وہی ہے درد بھی لیکن جدا معلوم ہوتا ہے
تِری یادوں سے تنہائی میں تسکیں دل کو ہوتی ہے
دیا ہے درد ایسا جو دوا معلوم ہوتا ہے
ستاؤ نہ ہم کو ستائے ہوئے ہیں
چراغ سحر ہیں بجھائے ہوئے ہیں
جو غم کو گلے سے لگائے ہوئے ہیں
وہ سینے میں شعلے چھپائے ہوئے ہیں
سناؤ یہ مژدے غموں کے اے لوگو
یہ نغمے سنے اور سنائے ہوئے ہیں