Showing posts with label اشرف باقری. Show all posts
Showing posts with label اشرف باقری. Show all posts

Tuesday, 16 December 2025

میرے سکوں کو میرے ہی غم نے مٹا دیا

 میرے سکوں کو میرے ہی غم نے مٹا دیا

یعنی دِیے نے گھر کے ہی گھر کو جلا دیا

مجھ میں سما کے مجھ سے ہی پردہ عجیب بات

مجھ کو کسی نے لگتا ہے مجھ میں سما دیا

پوچھو نہ عشق پر جو نوازش ہے حسن کی

دریا بنا دیا،۔ کبھی صحرا بنا دیا

Wednesday, 16 April 2025

وہ بھی اداس اداس ہیں ہم بھی اداس اداس

 وہ بھی اداس اداس ہیں ہم بھی اداس اداس

یعنی نہ ان کے پاس خوشی ہے نہ میرے پاس

بجھتی نہیں بجھائے کسی طرح دل کی پیاس

دل ہے کہ چھوڑتا نہیں کم بخت پھر بھی آس

مانا بدل کے رکھ دی بشر نے یہ کائنات

ہائے، مگر حیات کے تن پر وہی لباس

Tuesday, 15 April 2025

تیرا ہی ذکر تیرا ہی چرچا ہوا کرے

 تیرا ہی ذکر تیرا ہی چرچا ہوا کرے

ہوتا ہے حشر برپا تو برپا ہوا کرے

ہاں ناز اور نیاز اسے بھی پسند ہیں

کہہ دیجیے جبیں سے ادب سے جھکا کرے

موسیٰ نہیں جو تاب تجلی کی لا سکوں

پردہ اٹھے تو یوں نہ کرم کا اٹھا کرے

Saturday, 21 November 2020

کسی نے کر لیا عہد وفا معلوم ہوتا ہے

کسی نے کر لیا عہدِ وفا معلوم ہوتا ہے

ہوا ہے درد اپنی خود دوا معلوم ہوتا ہے

وہی یادیں ہیں لیکن کیفیت ہے دوسری دل کی

وہی ہے درد بھی لیکن جدا معلوم ہوتا ہے

تِری یادوں سے تنہائی میں تسکیں دل کو ہوتی ہے

دیا ہے درد ایسا جو دوا معلوم ہوتا ہے

Monday, 16 November 2020

ستاؤ نہ ہم کو ستائے ہوئے ہیں

ستاؤ نہ ہم کو ستائے ہوئے ہیں

چراغ سحر ہیں بجھائے ہوئے ہیں

جو غم کو گلے سے لگائے ہوئے ہیں

وہ سینے میں شعلے چھپائے ہوئے ہیں

سناؤ یہ مژدے غموں کے اے لوگو

یہ نغمے سنے اور سنائے ہوئے ہیں