دیوار کے ہوتے ہوئے در بیٹھ گیا ہے
بنیاد ہی ایسی تھی کہ گھر بیٹھ گیا ہے
سائے میں شجر کے تِری گلیوں کا مسافر
کیا حرج ہے کچھ دیر اگر بیٹھ گیا ہے
منزل کی تمنا میں ہر اک شخص چلا تھا
ہر شخص سر راہ گزر بیٹھ گیا ہے
دیوار کے ہوتے ہوئے در بیٹھ گیا ہے
بنیاد ہی ایسی تھی کہ گھر بیٹھ گیا ہے
سائے میں شجر کے تِری گلیوں کا مسافر
کیا حرج ہے کچھ دیر اگر بیٹھ گیا ہے
منزل کی تمنا میں ہر اک شخص چلا تھا
ہر شخص سر راہ گزر بیٹھ گیا ہے
یوں چلی ہے ہوا وطن میں اداس
سانس چلتے ہیں اب بدن میں اداس
ننگے پاؤں رواں دواں ہے جنوں
آزمائش کی اس اگن میں اداس
سازشی موسموں کی جیت ہوئی
غنچہ و گل ہوئے چمن میں اداس
یہ کارِ ریاضت بھی ہے خاموش تلاوت
خاموش محبت بھی ہے خاموش تلاوت
اس دل کا کوئی زخم اِدھر سے نہ اُدھر ہو
احساسِ امانت بھی ہے خاموش تلاوت
خاموش صحیفوں کی طرح اس کی ہے قامت
آیات سی صورت بھی ہے خاموش تلاوت
شبنمی چشم
جب سے دیکھی ہے وہ شبنمی سی چشم
اُس میں ڈُوبا تو مجھ راز کُھلا
آنکھ پر کُھل گئے نہاں منظر
خاک اُڑائی ہے قیس نے جتنی
اور فرہاد نے تنِ تنہا
جس طرح کوہِ بے ستوں کاٹا
ہونٹوں پہ اک سوال تھا تشنہ، عذاب میں
نشتر سا اس نے رکھ دیا لفظِ جواب میں
اک اشک اس طرف تھا پلک پر رُکا ہُوا
موتی ادھر رواں تھا تمنا کے باب میں
کچے گھڑے کی مٹی بکھرتی رہی اِدھر
محشر اُدھر بپا رہا موجِ چناب میں