Showing posts with label ریاض احسان. Show all posts
Showing posts with label ریاض احسان. Show all posts

Thursday, 27 March 2025

دیوار کے ہوتے ہوئے در بیٹھ گیا ہے

دیوار کے ہوتے ہوئے در بیٹھ گیا ہے

بنیاد ہی ایسی تھی کہ گھر بیٹھ گیا ہے

سائے میں شجر کے تِری گلیوں کا مسافر

کیا حرج ہے کچھ دیر اگر بیٹھ گیا ہے

منزل کی تمنا میں ہر اک شخص چلا تھا

ہر شخص سر راہ گزر بیٹھ گیا ہے

Sunday, 16 February 2025

یوں چلی ہے ہوا وطن میں اداس

 یوں چلی ہے ہوا وطن میں اداس 

سانس چلتے ہیں اب بدن میں اداس 

ننگے پاؤں رواں دواں ہے جنوں 

آزمائش کی اس اگن میں اداس 

سازشی موسموں کی جیت ہوئی 

غنچہ و گل ہوئے چمن میں اداس 

Tuesday, 28 May 2024

یہ کار ریاضت بھی ہے خاموش تلاوت

 یہ کارِ ریاضت بھی ہے خاموش تلاوت

خاموش محبت بھی ہے خاموش تلاوت

اس دل کا کوئی زخم اِدھر سے نہ اُدھر ہو

احساسِ امانت بھی ہے خاموش تلاوت 

خاموش صحیفوں کی طرح اس کی ہے قامت 

آیات سی صورت بھی ہے خاموش تلاوت

Saturday, 22 October 2022

جب سے دیکھی ہے وہ شبنمی سی چشم

شبنمی چشم


جب سے دیکھی ہے وہ شبنمی سی چشم 

اُس میں ڈُوبا تو مجھ راز کُھلا

آنکھ پر کُھل گئے نہاں منظر

خاک اُڑائی ہے قیس نے جتنی 

اور فرہاد نے تنِ تنہا 

جس طرح کوہِ بے ستوں کاٹا 

Thursday, 10 March 2022

ہونٹوں پہ اک سوال تھا تشنہ عذاب میں

ہونٹوں پہ اک سوال تھا تشنہ، عذاب میں 

نشتر سا اس نے رکھ دیا لفظِ جواب میں 

اک اشک اس طرف تھا پلک پر رُکا ہُوا 

موتی ادھر رواں تھا تمنا کے باب میں 

کچے گھڑے کی مٹی بکھرتی رہی اِدھر 

محشر اُدھر بپا رہا موجِ چناب میں