Tuesday, 20 October 2026

دلبر کا کیا گلہ کوئی غمخوار بھی نہیں

 دِلبر کا کیا گِلہ کوئی غمخوار بھی نہیں

پہلو میں آج تو دلِ ❤ بِیمار بھی نہیں

مرنا وہ جس کو حِیلہ و آزار بھی نہیں

قاتل وہ جس کے ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

تسکینِ دل محال ہے حالت کہے بغیر

اس پر سِتم کہ طاقتِ گُفتار بھی نہیں

محوِ جمال ہو کے مروں آرزو یہ ہے

حالت یہ ہے کہ طاقتِ دِیدار بھی نہیں

👁اللہ رے اعتبار، ادا و نِگاہ پر 👁 

مقتل میں آئے ہاتھ میں تلوار بھی نہیں


ناصری لکھنوی

No comments:

Post a Comment