عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ثنائے مصطفیٰﷺ لکھنے سے پہلے
کرو سجدہ ادا لکھنے سے پہلے
اس آئینے میں عکسِ کبریا ہے
سنبھل کر دیکھنا لکھنے سے پہلے
نمازِ عشق ہے ذکرِ محمدﷺ
وضو کر لو ذرا لکھنے سے پہلے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ثنائے مصطفیٰﷺ لکھنے سے پہلے
کرو سجدہ ادا لکھنے سے پہلے
اس آئینے میں عکسِ کبریا ہے
سنبھل کر دیکھنا لکھنے سے پہلے
نمازِ عشق ہے ذکرِ محمدﷺ
وضو کر لو ذرا لکھنے سے پہلے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل میں اسی لیے مِرے ارمانِ نعت ہے
میں نے سُنا ہے حشر میں میزانِ نعت ہے
عُنوان ہی لکھا کہ قلم تھک گیا مِرا
کتنا طویل جانے یہ میدانِ نعت ہے
اب خوف کچھ نہیں مجھے مُنکر نکیر کا
مِری لحد میں ساتھ جو دیوانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نبی کی اس قدر مجھ پہ ہوئی رحمت مدینے میں
مجھے تو مل گئی یارو! مِری جنت مدینے میں
پلک بھی کب جھپکتی ہے، کھڑا ہوں در پہ مولاؐ کے
گئی جانے کہاں سونے کی وہ عادت، مدینے میں
جو سر سجدے میں رکھا پھر کہاں خود سے اٹھا پایا
مجھے سجدے میں روکے ہے کوئی طاقت مدینے میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
روکنے پائے نہ خنجر بھی زبانِ انقلاب
دار سے ہم دے کے آئے ہیں اذانِ انقلاب
غیر ممکن ہے کہ بھٹکیں رہروانِ انقلاب
ہر قدم سجادؑ کا ہے اک نشانِ انقلاب
اے حسینؑ ابن علیؑ تُو ہی ہے جانِ انقلاب
بِن تِرے ہو ہی نہیں سکتا بیانِ انقلاب
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
باغِ حیدرؑ کے مقابل کون ٹھہرا سر سمیت
ہو گیا منظر سے غائب اپنے پس منظر سمیت
وہ تو غیضِ مرتضیٰؑ پر رحم غالب آ گیا
ورنہ اے جبریلؑ کٹ جاتی زمیں شہپر سمیت
پہلے سر انتر کا کاٹا، پھر کِیا مرحب پہ وار
لاش مرحب کی گِری لیکن سرِ انتر سمیت
عارفانہ کلام منقبت سلام بحضور امام حسینؑ
حسینؑ! ذکر تِرا گام گام کرتے ہوئے
گزر رہے ہیں زمانے سلام کرتے ہوئے
حسینؑ آپ نے سجدوں کو زندگی بخشی
بس ایک سجدۂ آخر تمام کرتے ہوئے
اٹھا کے پرچمِ عباسؑ ہم علیؑ والے
چلے ہیں فکرِ حسینی کو عام کرتے ہوئے