عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل میں اسی لیے مِرے ارمانِ نعت ہے
میں نے سُنا ہے حشر میں میزانِ نعت ہے
عُنوان ہی لکھا کہ قلم تھک گیا مِرا
کتنا طویل جانے یہ میدانِ نعت ہے
اب خوف کچھ نہیں مجھے مُنکر نکیر کا
مِری لحد میں ساتھ جو دیوانِ نعت ہے
لگتا ہے سجدہ ریز درِ مصطفیٰؐ پہ ہوں
احساس کیا حسِین یہ دورانِ نعت ہے
اک مُنفرد سی نعت لکھوں گا میں اب کے بار
قرآں سے لفظ لوں گا جو شایانِ نعت ہے
کاشف مِری نظر میں سخنور نہیں ہے وہ
جس کا قلم ابھی تلک انجانِ نعت ہے
کاشف حیدر
No comments:
Post a Comment