Wednesday, 3 January 2024

جس کی خس و خاشاک مدینہ سے بنی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جس کی خس و خاشاک مدینہ سے بنی ہے

وہ شخص سمجھ لو کہ مقدر کا دھنی ہے

جو آپ کے دربار کا ہو جائے گداگر

ہاں حاتم و خاقان سے بڑھ کر وہ غنی ہے

دل چیر کے رکھ دیتی ہے جو سانس بھی آئے

یہ ہجر مدینہ ہے کہ زنجیر زنی ہے

ہم آل محمدﷺ کے غلاموں کی ہمیشہ

شاہانِ زمانہ سے بنے گی نہ بنی ہے

جب نعت میں لکھتا ہوں تو ہوتا ہے یہ محسوس

اک چادرِ انوار مِرے سر تنی ہے

سانسوں میں رچی ہے مِرے خوشبوئے مدینہ

اب جسم مِرا جسم نہیں گُل بدنی ہے

سرکارﷺ کرم کی ہو نظر ہم پہ خدارا

ہم اپنے وطن میں ہیں مگر بے وطنی ہے

آقا! ہے جمیل آپﷺکا بیمارِ محبت

دیدار عطا ہو کہ مِری جاں پہ بنی ہے


صادق جمیل

No comments:

Post a Comment