کہیں بم دھماکے، کہیں زلزلے
اے خُدا کب رُکیں گے یہ سلسلے
کہیں عمل مکافات ہیں
کہیں قُدرتی آفات ہیں
بشر پر آئی ہیں وہ سختیاں
پناہ مانگتے آدم زاد ہیں
انسانی جانوں کا ہے اتنا زیاں
کہ کانپ اُٹھے ہیں زمین و آسماں
گولیوں سے چھلنی عوام کا سینہ ہے
کتنا مُشکل ان حالات میں جینا ہے
کیوں کھیل جاری ہے خُون کا
کیا کردار ہے یہاں قانون کا
بے گُناہوں کو قتل کر کے درندے
پھر کہلاتے ہیں نامعلوم بندے
ظالم سے سزا کیوں اتنی دور ہے
یہاں حکومت وقت کیوں مجبور ہے
گھرے ہر طرف سے عذاب ہیں
دھرے رہ گئے امن کے خواب ہیں
کیا ہماری ہیں یہ غفلتیں
جو ٹُوٹ پڑی ہیں یہ آفتیں
یہاں نفرت اتنی ہے بڑھ گئی کہ انسانیت ہی ہے
چھن گئی خود غرضی ہے مفاد ہے ہر رشتہ یہاں
پیسے کے بعد ہے
ابلیس کے نقشِ قدم پر چل پڑے ہیں
آدم کے بیٹے قابیل بن گئے ہیں
کوئی سبب بنا میرے خُدا
یہیں ختم ہو یہ سلسلہ
پھر امن قائم ہو ارضِ پاک میں
کوئی داغ نہ رہے اس کی ساکھ میں
متحد ہو جائیں پھر سے ہم وطن
جدا نہ ہو اب کسی سر سے تن
پھر گلی گلی میں سکون ہو
ہمیں ترقی کا ہی جنون ہو
ڈر و خوف میں کمی آئے
اب نہ کسی آنکھ میں نمی آئے
مٹی میں مل جائیں دُشمن کے ارادے
تُو ہمیں پھر سے یک جان بنا دے
میری تجھ سے ہے یہی التجا
اے میرے خدا، اے میرے خدا
میرے مُلک کو اس عوام کو
تُو رکھ اپنی امان میں
پھر سے آ جائے امن و آتشی
میرے پیارے پاکستان میں
فرح بھٹو
No comments:
Post a Comment