زعفرانی غزل
محکمہ ختم پُلس کا جو کبھی ہو جائے
عین ممکن ہے جرائم میں کمی ہو جائے
تیل وہ آپ کو دوں گا کہ طبق روشن ہوں
ٹِنڈ پر زُلف اُگے، اور گھنی ہو جائے
مجھ پہ لٹُو تِری جاناں ہے، بتاتا کیسے
ڈر رہا تھا نہ تِری دل شکنی ہو جائے
وصل کی رات بُلا کر نہ وہ آیا اب تک
اصطبل میں نہ کہیں شب بسری ہو جائے
ہاتھ میں میرے قلم، دست میں اس کے چمچہ
آج بیگم سے نہ شمشیر زنی ہو جائے
پوری شادی میں یہی خوف رہا دل میں مِرے
پہلی بیوی نہ کہیں آ کے کھڑی ہو جائے
گھر بسا، کل یہ جوانی نہ رہے، کس کو پتا
کب خِزاں دِیدہ تِری گُل بدنی ہو جائے
گھر کے سب کام کرائیں، مجھے طعنے تو نہ دیں
ہم سے بیگم نہ کہیں بے ادبی ہو جائے
آپ نے خود ہی لُٹیروں کو بنایا رہبر
دیکھتے جائیے کب راہ زنی ہو جائے
امجد علی راجا
No comments:
Post a Comment