دور کہیں آکاش میں رہتے چاند سے کھیلا کرتے
کرنوں کی بگھی پہ بیٹھ کے سب جگ گھوما کرتے
دور دراز کے غار میں کوئی چھپا خزانہ ہوتا
ہم دونوں سر جوڑ کے اس کے نقشے سوچا کرتے
باہو کے دربار پہ جاتے "ہُو" کا نعرہ لگاتے
بُلھے کی کوئی کافی گاتے تھیا تھیا کرتے
دور کہیں آکاش میں رہتے چاند سے کھیلا کرتے
کرنوں کی بگھی پہ بیٹھ کے سب جگ گھوما کرتے
دور دراز کے غار میں کوئی چھپا خزانہ ہوتا
ہم دونوں سر جوڑ کے اس کے نقشے سوچا کرتے
باہو کے دربار پہ جاتے "ہُو" کا نعرہ لگاتے
بُلھے کی کوئی کافی گاتے تھیا تھیا کرتے
زمیں کی آنکھ پہ یہ آسمان کُھل گیا ہو
کہ اک خیال سے جیسے جہان کھل گیا ہو
یہ دل دلیلیں بہت مانگنے لگا ہے کہِیں
یہاں بھی دفترِ سود و زیان کھل گیا ہو
تمام گھاؤ مِری روح کی طرف لپکے
کہ جیسے زخموں کا دارالامان کھل گیا ہو
دھنک کے رنگ چُرا لیں ہمارا بس جو چلے
تری ہتھیلی میں ڈالیں ہمارا بس جو چلے
بنا کے وقت کا کوئی وجود سورج سا
اسے ڈبوئیں نکالیں ہمارا بس جو چلے
یہ چاند گیند کے جیسے اچھالتے جائیں
ستارے جیب میں ڈالیں ہمارا بس جو چلے
پورے چاند کی رات
چرخہ کاتنے والی بڑھیا
کب سے دھاگا کات رہی ہو
صدیوں کی محنت کا حاصل
یہ دھاگا مضبوط تو ہو گا
تُو نے شاید سارے تارے
ابھی خواہش بھی ہے جاناں ابھی رُت بھی سُہانی ہے
نجانے کب بدل جائے، دلوں کی کس نے جانی ہے
ابھی تم خام ہو تھوڑے، ابھی کندن نہیں کہتے
ابھی اک روک لگنا ہے، ابھی اک چوٹ کھانی ہے
بدلتے ہیں فقط ہم تم، بدلتا کچھ نہیں پیارے
وہی پچھلا زمانہ ہے، وہی پچھلی کہانی ہے
چشمِ لبریز میں جمال اتار
دل کے زخموں پہ اندمال اتار
کم نصیبوں پہ، ہجر زدگاں پر
اب کوئی آیتِ وصال اتار
تیری مٹھی میں چاند، سورج ہیں
اب جلا یا بُجھا، اچھال، اتار
سرنڈر
مرے خیموں پہ جب غیروں کا پرچم ہو
میرا لشکر ہی میرے عدو سے جا کر مل جائے
کمانیں تیر برسانے سے منکر ہوں
ہوائیں جو ہماری دسترس میں تھیں
وہی اپنی مخالف ہوں
فلک ہو ساتھ نہ یہ جگ ہمارا ہو