Showing posts with label منصور راٹھور. Show all posts
Showing posts with label منصور راٹھور. Show all posts

Tuesday, 20 December 2022

دور کہیں آکاش میں رہتے چاند سے کھیلا کرتے

 دور کہیں آکاش میں رہتے چاند سے کھیلا کرتے

کرنوں کی بگھی پہ بیٹھ کے سب جگ گھوما کرتے

دور دراز کے غار میں کوئی چھپا خزانہ ہوتا

ہم دونوں سر جوڑ کے اس کے نقشے سوچا کرتے

باہو کے دربار پہ جاتے "ہُو" کا نعرہ لگاتے

بُلھے کی کوئی کافی گاتے تھیا تھیا کرتے

Saturday, 16 October 2021

زمیں کی آنکھ پہ یہ آسمان کھل گیا ہو

زمیں کی آنکھ پہ یہ آسمان کُھل گیا ہو

کہ اک خیال سے جیسے جہان کھل گیا ہو

یہ دل دلیلیں بہت مانگنے لگا ہے کہِیں

یہاں بھی دفترِ سود و زیان کھل گیا ہو

تمام گھاؤ مِری روح کی طرف لپکے

کہ جیسے زخموں کا دارالامان کھل گیا ہو

Thursday, 20 May 2021

دھنک کے رنگ چرا لیں ہمارا بس جو چلے

 دھنک کے رنگ چُرا لیں ہمارا بس جو چلے

تری ہتھیلی میں ڈالیں ہمارا بس جو چلے

بنا کے وقت کا کوئی وجود سورج سا

اسے ڈبوئیں نکالیں ہمارا بس جو چلے

یہ چاند گیند کے جیسے اچھالتے جائیں

ستارے جیب میں ڈالیں ہمارا بس جو چلے

Sunday, 16 May 2021

پورے چاند کی رات چرخہ کاتنے والی بڑھیا

 پورے چاند کی رات


چرخہ کاتنے والی بڑھیا

کب سے دھاگا کات رہی ہو

صدیوں کی محنت کا حاصل

یہ دھاگا مضبوط تو ہو گا

تُو نے شاید سارے تارے

Saturday, 15 May 2021

ابھی خواہش بھی ہے جاناں ابھی رت بھی سہانی ہے

 ابھی خواہش بھی ہے جاناں ابھی رُت بھی سُہانی ہے

نجانے کب بدل جائے، دلوں کی کس نے جانی ہے

ابھی تم خام ہو تھوڑے، ابھی کندن نہیں کہتے

ابھی اک روک لگنا ہے، ابھی اک چوٹ کھانی ہے

بدلتے ہیں فقط ہم تم، بدلتا کچھ نہیں پیارے

وہی پچھلا زمانہ ہے، وہی پچھلی کہانی ہے

Sunday, 4 April 2021

چشم لبریز میں جمال اتار

 چشمِ لبریز میں جمال اتار

دل کے زخموں پہ اندمال اتار

کم نصیبوں پہ، ہجر زدگاں پر

اب کوئی آیتِ وصال اتار

تیری مٹھی میں چاند، سورج ہیں

اب جلا یا بُجھا، اچھال، اتار

Friday, 2 April 2021

سرنڈر؛ چلو میں ‌ہار جاتا ہوں

 سرنڈر


مرے خیموں پہ جب غیروں کا پرچم ہو

میرا لشکر ہی میرے عدو سے جا کر مل جائے

کمانیں تیر برسانے سے منکر ہوں

ہوائیں جو ہماری دسترس میں تھیں

وہی اپنی مخالف ہوں

فلک ہو ساتھ نہ یہ جگ ہمارا ہو