سرنڈر
مرے خیموں پہ جب غیروں کا پرچم ہو
میرا لشکر ہی میرے عدو سے جا کر مل جائے
کمانیں تیر برسانے سے منکر ہوں
ہوائیں جو ہماری دسترس میں تھیں
وہی اپنی مخالف ہوں
فلک ہو ساتھ نہ یہ جگ ہمارا ہو
فقط اِک عزم پیہم ہو، ہمیں جس کا سہارا ہو
مِرے دشمن، مِرے نا آشنا چہرے
مِرا پھر بھی یہ دعویٰ ہے
لڑائی جیت جاتا میں
لڑائی دو بدو ہوتی اگر تو جیت جاتا میں
میں اس چہروں کے جنگل میں ہر اک سے کس طرح لڑتا
کسی انجان دشمن سے عداوت کس طرح کرتا
مِرے دشمن، مِرے نا آشنا چہرے
چلو اپنی ہی ساری خواہشوں کی گردنوں کو
گھونٹ کر میں مار جاتا ہوں
چلو میں ہار جاتا ہوں
منصور راٹھور
No comments:
Post a Comment