Friday, 2 April 2021

راہ چلتے کو یہ اعزاز نہیں دے سکتے

 راہ چلتے کو یہ اعزاز نہیں دے سکتے

اپنی آنکھوں میں چھپے راز نہیں دے سکتے

وہ خدا ہے تو گزارش بھی الگ بنتی ہے

سوچتے رہتے ہیں آواز نہیں دے سکتے

اس کہانی میں کئی بار جدائی ہو گی

ڈرتے رہتے ہیں سو آغاز نہیں دے سکتے

اس کا مطلب کہ ہمیں بولنا آتا ہی نہیں

اس کی چُپ کو اگر آواز نہیں دے سکتے

جو بزرگوں کی زیارت کو نہیں جاتے ہیں

لفظ کو قوتِ پرواز نہیں دے سکتے

تیری تسکین کی خاطر ہے یہ دنیا حاضر

بس تجھے چادرِِ شہباز نہیں دے سکتے


تجدید قیصر

No comments:

Post a Comment