عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حرف حرف عزت ہو، لفظ لفط مدحت ہو
سوچ سوچ نُدرت ہو، شعر شعر حُرمت ہو
لہجہ لہجہ امرت ہو، صفحہ صفحہ عظمت ہو
نعت وہ لکھوں جس میں عِجز ہو، عقیدت ہو
پُھول پُھول نکہت ہو، نجم نجم رفعت ہو
زیست زیست چاہت ہو، خواب خواب قُربت ہو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حرف حرف عزت ہو، لفظ لفط مدحت ہو
سوچ سوچ نُدرت ہو، شعر شعر حُرمت ہو
لہجہ لہجہ امرت ہو، صفحہ صفحہ عظمت ہو
نعت وہ لکھوں جس میں عِجز ہو، عقیدت ہو
پُھول پُھول نکہت ہو، نجم نجم رفعت ہو
زیست زیست چاہت ہو، خواب خواب قُربت ہو
دل کو درپن بنا کے دیکھ لیا
‘جھوٹ سچ آزما کے دیکھ لیا’
فیصلہ بھی کوئی سنا دیجے
آپ نے آزما کے دیکھ لیا
دل کی بے تابیاں نہیں جاتیں
زخمِ الفت بھی کھا کے دیکھ لیا
زیست میں ہو کوئی ترتیب ضروری تو نہیں
لوگ ہوں تابعِ تہذیب ضروری تو نہیں
مہربانوں نے بلایا ہے محبت سے، مگر
راس آ جائے وہ تقریب ضروری تو نہیں
آپ جھٹلائیں مجھے، آپ کا ہے ظرف مگر
میں کروں آپ کی تکذیب، ضروری تو نہیں
طلوعِ مہر بھی ہو، دہر میں سحر بھی نہ ہو
فروغِ تیرگی دنیا میں اس قدر بھی نہ ہو
ملی ہے زیست تو پھر غم بھی جھیلنے ہوں گے
یہ کیسے ہو کہ سمندر بھی ہو بھنور بھی نہ ہو
اگر ہے رشتۂ الفت تو کیسے ممکن ہے
جو حال دل کا اِدھر ہے، وہی اُدھر بھی نہ ہو
وہ میرے دھیان سے غافل کبھی ہوئے بھی نہیں
نظر اُٹھا کے مِری سمت دیکھتے بھی نہیں
یہ قربتیں بھی ہیں طرفہ، یہ دوریاں بھی عجب
نہیں وہ پاس بھی میرے، کہیں گئے بھی نہیں
کبھی تو حال سناتے ہیں بِیتے لمحوں کا
کبھی یہی در و دیوار بولتے بھی نہیں