Showing posts with label شاہین فصیح ربانی. Show all posts
Showing posts with label شاہین فصیح ربانی. Show all posts

Saturday, 16 December 2023

حرف حرف عزت ہو لفظ لفط مدحت ہو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حرف حرف عزت ہو، لفظ لفط مدحت ہو

سوچ سوچ نُدرت ہو، شعر شعر حُرمت ہو

لہجہ لہجہ امرت ہو، صفحہ صفحہ عظمت ہو

نعت وہ لکھوں جس میں عِجز ہو، عقیدت ہو

پُھول پُھول نکہت ہو، نجم نجم رفعت ہو

زیست زیست چاہت ہو، خواب خواب قُربت ہو

Wednesday, 14 April 2021

دل کو درپن بنا کے دیکھ لیا

 دل کو درپن بنا کے دیکھ لیا

‘جھوٹ سچ آزما کے دیکھ لیا’

فیصلہ بھی کوئی سنا دیجے

آپ نے آزما کے دیکھ لیا

دل کی بے تابیاں نہیں جاتیں

زخمِ الفت بھی کھا کے دیکھ لیا

Friday, 5 February 2021

زیست میں ہو کوئی ترتیب ضروری تو نہیں

زیست میں ہو کوئی ترتیب ضروری تو نہیں

لوگ ہوں تابعِ تہذیب ضروری تو نہیں

مہربانوں نے بلایا ہے محبت سے، مگر

راس آ جائے وہ تقریب ضروری تو نہیں

آپ جھٹلائیں مجھے، آپ کا ہے ظرف مگر

میں کروں آپ کی تکذیب، ضروری تو نہیں

Friday, 20 February 2015

غم اس کے پاس ہی سے گزرنے نہیں دیا

غم اس کے پاس ہی سے گزرنے نہیں دیا
اس کی گلی میں پاؤں بھی دھرنے نہیں دیا
آنکھیں تو ڈبڈبائیں تِری یاد میں، مگر
پلکوں پہ آنسوؤں کو اترنے نہیں دیا
دل آئینہ شکار ہوا ٹوٹ پھوٹ کا
لیکن تمہارا عکس بکھرنے نہیں دیا

ایسا چپ چاپ سا نہیں ہوتا

ایسا چپپ چاپ سا نہیں ہوتا
جس کو کوئی گِلہ نہیں ہوتا
گر مِرا سامنا نہیں ہوتا
آئینہ، آئینہ نہیں ہوتا
جب کوئی قافلہ نہیں ہوتا
راستہ، راستہ نہیں ہوتا

جاتے جاتے وہ کوئی گل تو کھلا ہی دیں گے

جاتے جاتے وہ کوئی گُل تو کھِلا ہی دیں گے
نامِ تعمیر پہ گُلشن کو تباہی دیں گے
بس یہی، بزم سے وہ ہم کو اٹھا ہی دیں گے
بات ہم بھی تو مگر اپنی سنا ہی دیں گے
اور کچھ بھی نہ سہی، اشک ستارے ہی سہی
جیسے تیسے تِری راہوں کو سجا ہی دیں گے

مجھ سے ناراض ہوئے دوست پرانے میرے

مجھ سے ناراض ہوئے دوست پرانے میرے
رابطے توڑ دئیے میری انا نے میرے
میری آنکھیں کسی ویران کھنڈر جیسی ہیں
لے گیا چھین کے وہ خواب سہانے میرے
ورنہ میں گردشِ دوراں سے کہاں بچتا تھا
مسئلے حل کیے سب ماں کی دعا نے میرے

Friday, 28 November 2014

کہہ دیا جبہ و دستار نہیں چاہتے ہم

کہہ دیا، جبہ و دستار نہیں چاہتے ہم
’’دیکھ! درویش ہیں، تکرار نہیں چاہتے ہم‘‘
ہم بنیں تیرے گنہگار، نہیں چاہتے ہم
اس لیے، پیار کا اظہار نہیں چاہتے ہم
مان لی بات بلا چون و چراں بھائی کی
’’بات اتنی ہے کہ، ‘‘دیوار نہیں چاہتے ہم 

وہ جو دل میں رکھتے ہیں آرزو اذانوں کی

وہ جو دل میں رکھتے ہیں آرزو اذانوں کی
بند کس طرح رکھیں کھڑکیاں مکانوں کی
پرچمِ یقیں ان کو لائے گا نہ خاطر میں
تند و تیز کیسی ہوں آندھیاں گمانوں کی
کیا ہوا زمیں نے گر پاؤں باندھ رکھے ہیں
خواب میں تو کرتے ہیں سیر آسمانوں کی

کهلتا نہیں دراصل ہوں باسی کہاں کا میں

کهُلتا نہیں دراصل ہوں باسی کہاں کا میں
گاہے زمیں کا ہوں تو گہے آسماں کا میں
رکهوں خیال کیسے کسی کہکشاں کا میں
رہبر ہوں ایک سوئے ہوئے کارواں کا میں
کچھ بهی دکهائی دیتا نہیں دور دور تک
مرکز ہوں ایک دائرۂ بے کراں کا میں

Wednesday, 8 January 2014

خواب اپنا ہے نہ تعبیر ہماری اپنی

خواب اپنا ہے، نہ تعبیر ہماری اپنی
ہے مگر پاؤں میں زنجیر ہماری اپنی
کوئی دُشمن نے تو نقصان نہیں پہنچایا
گھاؤ دیتی رہی شمشیر ہماری اپنی
ایسے تبدیل کیے گردشِ دوراں نے نقوش
ہم سے مِلتی نہیں تصویر ہماری اپنی

دولت جسے ملی وہ کچھ ایسا بدل گیا

دولت جسے مِلی وہ کچھ ایسا بدل گیا
حُلیے کے ساتھ ساتھ، رویہ بدل گیا
رَستوں سے نارسائی کا شکوہ کرے وہ کیا
چلنے سے پہلے جس کا ارادہ بدل گیا
ہم تو سمجھ رہے تھے کہ بدلے گا اب روِش
لیکن وہ دُھن کا پکّا دوبارہ بدل گیا

قدم قدم پہ دیا ایک امتحاں میں نے

قدم قدم پہ دِیا ایک امتحاں میں نے
گزار دی ہے مگر عمر رائیگاں میں نے
یہ اور بات کہ آنکھوں نے کہہ دیا سب کچھ
ترے حضور میں کھولی نہیں زباں میں نے
رہا یہ خوف کہ ناکام ہو نہ جائیں کہیں
جبھی لیا نہیں یاروں کا امتحاں میں نے

سبو نہیں کہ فقط ایک بار ٹوٹے گا

سبُو نہیں، کہ فقط ایک بار ٹُوٹے گا
ہزار بار، دلِ بے قرار ٹوٹے گا
طلسمِ خواہشِ دیدارِ یار ٹوٹے گا
کہ ہم پہ جب سِتمِ روزگار ٹوٹے گا
بڑھیں گے کیا کسی تعبِیر کی طرف ہم لوگ
ہمارا خواب اگر بار بار ٹوٹے گا

ہماری کاوش پیہم کا جادو چل جائے

ہماری کاوشِ پیہم کا جادُو چل جائے
بُجھے چراغ سے کوئی چراغ جل جائے
غریبِ شہر کے بچوں کی خواہشیں کیسی
کہ جن کا ٹُوٹے کھلونوں سے دل بہل جائے
زمانہ رشک کرے اس کی سخت جانی پر
نِگہ کی چوٹ بھی کھا کر کوئی سنبھل جائے

اپنے کام ادھورے چھوڑے تیرے کام کیے

اپنے کام ادھورے چھوڑے، تیرے کام کیے
وقت کی کوئی قید نہ رکھی، صبح و شام کیے
تیری خاطر ڈھونڈ رہا ہوں خوشیاں صبح و شام
جانے کتنی صدیاں بِیتیں، پَل آرام کیے
مرتے دَم تک یاد رہے گا تیرا یہ برتاؤ
بزم میں تُو نے میری جانب خالی جام کیے

Tuesday, 26 June 2012

طلوعِ مہر بھی ہو دہر میں سحر بھی نہ ہو

 طلوعِ مہر بھی ہو، دہر میں سحر بھی نہ ہو

 فروغِ تیرگی دنیا میں اس قدر بھی نہ ہو

 ملی ہے زیست تو پھر غم بھی جھیلنے ہوں گے

 یہ کیسے ہو کہ سمندر بھی ہو بھنور بھی نہ ہو

 اگر ہے رشتۂ الفت تو کیسے ممکن ہے

 جو حال دل کا اِدھر ہے، وہی اُدھر بھی نہ ہو

وہ میرے دھیان سے غافل کبھی ہوئے بھی نہیں

 وہ میرے دھیان سے غافل کبھی ہوئے بھی نہیں

 نظر اُٹھا کے مِری سمت دیکھتے بھی نہیں

 یہ قربتیں بھی ہیں طرفہ، یہ دوریاں بھی عجب

 نہیں وہ پاس بھی میرے، کہیں گئے بھی نہیں

 کبھی تو حال سناتے ہیں بِیتے لمحوں کا

 کبھی یہی در و دیوار بولتے بھی نہیں