Showing posts with label گوہر سیما. Show all posts
Showing posts with label گوہر سیما. Show all posts

Sunday, 19 December 2021

میں ہر سانچے میں ڈھلنا جانتی ہوں

 میں ہر سانچے میں ڈھلنا جانتی ہوں

میں مثلِ شمع جلنا جانتی ہوں

میں عورت ہوں مِرا ہے ظرف اعلیٰ

کٹھن رستوں پہ چلنا جانتی ہوں

حوادث کی کروں کیا بات یارو

ہوا کا رخ بدلنا جانتی ہوں

Friday, 18 December 2020

زیست آنکھوں میں حسیں خواب سجاتے گزری

 زیست آنکھوں میں حسیں خواب سجاتے گزری

روٹھے روٹھے تھے جو پل ان کو مناتے گزری

زندگی نے کبھی اپنا مجھے ہونے نہ دیا

عمر رشتوں کے تقاضے ہی نبھاتے گزری

خشک کرتے رہے آنکھوں کا سمندر اکثر

خود کو بے وجہ سی باتوں پہ ہنساتے گزری

Thursday, 17 December 2020

وحشتوں کا آج پھر چرچا رہا

 وحشتوں کا آج پھر چرچا رہا

آج پھر یہ دل میرا ٹھہرا رہا

وادیوں میں زندگی مرتی رہی

درد آنکھوں سے میری بہتا رہا

زندگی اپنا سفر کرتی رہی

ہر نفس ایک خوف سا برپا رہا

Wednesday, 16 December 2020

زندگی تیرے یہ آزار کہاں تک دیکھوں

 زندگی تیرے یہ آزار کہاں تک دیکھوں

کرب ہی کرب کا انبار کہاں تک دیکھوں

اپنی ہی دُھن میں یہ گم انساں کا

روز گِرتا ہوا معیار کہاں تک دیکھوں

سرخ آنکھوں کی چبھن اپنی چھپاؤں کب تک

خون آلود یہ اخبار کہاں تک دیکھوں

ان کو الفت کا اعتراف نہیں

 یہ نیا کوئی انکشاف نہیں

ان کو الفت کا اعتراف نہیں

کس پہ ہم دوست اعتبار کریں

کوئی چہرہ بھی آج صاف نہیں

سر اٹھاؤں تو آسمان ہے دور

پاؤں پھیلاؤں تو لحاف نہیں

Tuesday, 15 December 2020

لٹ رہی ہے بہار کون سنے

 لٹ رہی ہے بہار کون سنے

خشک ہیں آبشار کون سنے

گل و بلبل بھی اب پریشاں ہیں

ان کی لیل و نہار کون سنے

روٹھی روٹھی ہے وادیوں کی فضا

درد ہیں بے شمار کون سنے