میں ہر سانچے میں ڈھلنا جانتی ہوں
میں مثلِ شمع جلنا جانتی ہوں
میں عورت ہوں مِرا ہے ظرف اعلیٰ
کٹھن رستوں پہ چلنا جانتی ہوں
حوادث کی کروں کیا بات یارو
ہوا کا رخ بدلنا جانتی ہوں
میں ہر سانچے میں ڈھلنا جانتی ہوں
میں مثلِ شمع جلنا جانتی ہوں
میں عورت ہوں مِرا ہے ظرف اعلیٰ
کٹھن رستوں پہ چلنا جانتی ہوں
حوادث کی کروں کیا بات یارو
ہوا کا رخ بدلنا جانتی ہوں
زیست آنکھوں میں حسیں خواب سجاتے گزری
روٹھے روٹھے تھے جو پل ان کو مناتے گزری
زندگی نے کبھی اپنا مجھے ہونے نہ دیا
عمر رشتوں کے تقاضے ہی نبھاتے گزری
خشک کرتے رہے آنکھوں کا سمندر اکثر
خود کو بے وجہ سی باتوں پہ ہنساتے گزری
وحشتوں کا آج پھر چرچا رہا
آج پھر یہ دل میرا ٹھہرا رہا
وادیوں میں زندگی مرتی رہی
درد آنکھوں سے میری بہتا رہا
زندگی اپنا سفر کرتی رہی
ہر نفس ایک خوف سا برپا رہا
زندگی تیرے یہ آزار کہاں تک دیکھوں
کرب ہی کرب کا انبار کہاں تک دیکھوں
اپنی ہی دُھن میں یہ گم انساں کا
روز گِرتا ہوا معیار کہاں تک دیکھوں
سرخ آنکھوں کی چبھن اپنی چھپاؤں کب تک
خون آلود یہ اخبار کہاں تک دیکھوں
یہ نیا کوئی انکشاف نہیں
ان کو الفت کا اعتراف نہیں
کس پہ ہم دوست اعتبار کریں
کوئی چہرہ بھی آج صاف نہیں
سر اٹھاؤں تو آسمان ہے دور
پاؤں پھیلاؤں تو لحاف نہیں
لٹ رہی ہے بہار کون سنے
خشک ہیں آبشار کون سنے
گل و بلبل بھی اب پریشاں ہیں
ان کی لیل و نہار کون سنے
روٹھی روٹھی ہے وادیوں کی فضا
درد ہیں بے شمار کون سنے