زندگی تیرے یہ آزار کہاں تک دیکھوں
کرب ہی کرب کا انبار کہاں تک دیکھوں
اپنی ہی دُھن میں یہ گم انساں کا
روز گِرتا ہوا معیار کہاں تک دیکھوں
سرخ آنکھوں کی چبھن اپنی چھپاؤں کب تک
خون آلود یہ اخبار کہاں تک دیکھوں
نفرتیں تو ختم کر دے میرے مولا اب تو
ہر نفس شعلے و انگار کہاں تک دیکھوں
گوہر سیما
No comments:
Post a Comment