ماں
سورج کی ہتھیلی پہ جمی دھرتی پر
ماں کے بے انت سائے میں
زندگی کی جڑی بوٹیاں
نشو و نما پاتی ہیں
دیکھتے ہی دیکھتے
صحن گلزار بن جاتا ہے
ماں
سورج کی ہتھیلی پہ جمی دھرتی پر
ماں کے بے انت سائے میں
زندگی کی جڑی بوٹیاں
نشو و نما پاتی ہیں
دیکھتے ہی دیکھتے
صحن گلزار بن جاتا ہے
یہ کس نے تجھ کو بتایا ہے جاں سراب ہوں میں
ذرا سا منہ لگا مجھ کو، ارے چناب ہوں میں
نہ یاد کر مجھے گزرے ہوئے تُو وقت کی طرح
کہ مجھ کو روز پڑھو، درد کا نصاب ہوں میں
اسے تُو اشکِ ندامت سمجھ کے چھوڑ نہ جا
کسی کی یاد میں بس بہہ رہا ہوں آب ہوں میں
اتارا شیشے میں اک شیشہ باز نے ہم کو
بہاروں میں دیا غم جاں گداز نے ہم کو
خیالِ حسن ہی باغِ بہشت ہوتا ہے
بڑی تسلیاں دیں ہیں فراز نے ہم کو
حجابِ راہ ہے منزل نہیں رباب و چنگ
دیا ہے راز محبت کے ساز نے ہم کو
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
حضوؐر کے جو غلاموں میں نام آ جائے
مِرا بھی عشقِ نبیﷺ میں مقام آ جائے
پکاریں لوگ مجھے آپﷺ کا ہی دیوانہ
مِرے بھی ہاتھ میں کوثر کا جام آ جائے
ہو طیبہ کا سفر چوم لوں میں خاکِ پا
مِرے نصیب میں ایسی جو شام آ جائے
کہاں تک مسکرا کے غم اٹھائیں
جہاں والو! تمہیں ہم کیا بتائیں
اکیلے ہم ہی کیوں کر چوٹ کھائیں
جہاں والے بھی کوئی غم اٹھائیں
یہ سورج، شام ،خاموشی، یہ لالی
بہت کچھ کہہ کے جائیں، یہ ہوائیں
عشق بے موت کبھی مرنے کہاں دیتا ہے
گھپ اندھیرے میں کئی روشنیاں دیتا ہے
لذتِ دردِ جگر راس اگر آ جائے
ہجر کے غم وہ بھلانے ہی کہاں دیتا ہے
تُو نے کچھ کرنا ہے تو دان محبت کر دے
ورنہ یہ درد ہمیں سارا جہاں دیتا ہے