Showing posts with label سیف علی عدیل. Show all posts
Showing posts with label سیف علی عدیل. Show all posts

Monday, 21 March 2022

سورج کی ہتھیلی پہ جمی دھرتی پر

ماں


سورج کی ہتھیلی پہ جمی دھرتی پر

ماں کے بے انت سائے میں

زندگی کی جڑی بوٹیاں

نشو و نما پاتی ہیں

دیکھتے ہی دیکھتے

صحن گلزار بن جاتا ہے

Wednesday, 26 January 2022

یہ کس نے تجھ کو بتایا ہے جاں سراب ہوں میں

 یہ کس نے تجھ کو بتایا ہے جاں سراب ہوں میں

ذرا سا منہ لگا مجھ کو، ارے چناب ہوں میں

نہ یاد کر مجھے گزرے ہوئے تُو وقت کی طرح

کہ مجھ کو روز پڑھو، درد کا نصاب ہوں میں

اسے تُو اشکِ ندامت سمجھ کے چھوڑ نہ جا

کسی کی یاد میں بس بہہ رہا ہوں آب ہوں میں

Friday, 24 December 2021

اتارا شیشے میں اک شیشہ باز نے ہم کو

 اتارا شیشے میں اک شیشہ باز نے ہم کو

بہاروں میں دیا غم جاں گداز نے ہم کو

خیالِ حسن ہی باغِ بہشت ہوتا ہے

بڑی تسلیاں دیں ہیں فراز نے ہم کو

حجابِ راہ ہے منزل نہیں رباب و چنگ

دیا ہے راز محبت کے ساز نے ہم کو

Thursday, 23 December 2021

حضور کے جو غلاموں میں نام آ جائے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


حضوؐر کے جو غلاموں میں نام آ جائے

مِرا بھی عشقِ نبیﷺ میں مقام آ جائے

پکاریں لوگ مجھے آپﷺ کا ہی دیوانہ

مِرے بھی ہاتھ میں کوثر کا جام آ جائے

ہو طیبہ کا سفر چوم لوں میں خاکِ پا

مِرے نصیب میں ایسی جو شام آ جائے

Wednesday, 22 December 2021

کہاں تک مسکرا کے غم اٹھائیں

 کہاں تک مسکرا کے غم اٹھائیں

جہاں والو! تمہیں ہم کیا بتائیں

اکیلے ہم ہی کیوں کر چوٹ کھائیں

جہاں والے بھی کوئی غم اٹھائیں

یہ سورج، شام ،خاموشی، یہ لالی

بہت کچھ کہہ کے جائیں، یہ ہوائیں

Friday, 3 December 2021

عشق بے موت کبھی مرنے کہاں دیتا ہے

 عشق بے موت کبھی مرنے کہاں دیتا ہے

گھپ اندھیرے میں کئی روشنیاں دیتا ہے

لذتِ دردِ جگر راس اگر آ جائے

ہجر کے غم وہ بھلانے ہی کہاں دیتا ہے

تُو نے کچھ کرنا ہے تو دان محبت کر دے

ورنہ یہ درد ہمیں سارا جہاں دیتا ہے